رضویہ “وغیرہ سے نکال کر امام صاحب کے پاس لے جائیے اور عرض کیجیے: ”حُضُور ! یہ مَسئلہ مجھےسمجھا دیجیے“ اور آپ کا اَنداز بھی سیکھنے والا ہو کیونکہ عُلَمائے کرام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام ہمارے راہ نُما ہیں۔ جب آپ سیکھنے والے اَنداز میں ان سے عرض کریں گے تو وہ آپ کو مَسئلہ سمجھا دیں گے اور ہو سکتا ہے کہ ان کی اپنی تَوَجُّہ بھی اس طرف چلی جائے کہ اس مَسئلے میں تو میں بھی بھُول کر رہا ہوں۔ وہ آپ کو سمجھاتے سمجھاتے خود بھی سمجھ جائیں گے اِس طرح وہ ناراض بھی نہیں ہوں گے اور اُن کی اِصلاح بھی ہو جائے گی۔اِس ضِمن میں حِکمتِ عملی کی بَرکتوں سے مالا مال ایک دِلچسپ حِکایت مُلاحظہ کیجیے:
حکمتِ عملی کی بَرکت سے مالا مال دِلچسپ حِکایت
حضرتِسیِّدُنا عبدُ اللہ بن مُبارک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق فرماتے ہیں ملکِ شام میں میری مُلاقات اِمام اَوزاعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے ہوئی وہ مجھ سے فرمانے لگے: کوفے کے اُس بِدعتی کا کیا حال ہے جس کی کنیت ”اَبُوحنیفہ“ہے؟ میں نے اُن کی بات سُنی اور گھر آگیا اور تین دن مُسلسل امامِ اعظم اَبُو حنیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بیان کردہ مَسائل لکھتا رہا، تیسرے دن دوبارہ اِمام اَوزاعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے پاس گیا تو اُنہوں نے میرے ہاتھ میں وہ صَفحات دیکھے جن پر میں نے مَسائل لکھے ہوئے تھے تو اُنہوں نے مجھ سے وہ صَفحات لیے اور مُطَالَعہ فرمانے