مُعاملے میں ان سے نہ اُلجھئے اِنْ شَآ ءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ مَساجد میں مدنی کام کرنے میں آسانی ہو گی۔حدیثِ پاک میں ہے:اَلْحِکْمَۃُ ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ یعنی حکمت مؤمن کا گمشدہ خزانہ ہے۔ (1) یاد رہے! اگر کمیٹی میں کوئی فاسِقِ مُعلِن ہو تو اُس کی تعظیم کرنے، اُسے نمایاں جگہ پر بٹھانے ، خود اُس کے قدموں میں بیٹھنے اور اُس کی جھوٹی تعریف وغیرہ کرنے کی اِجازت نہیں، جہاں فتنے کا اَندیشہ ہو وہاں دُور رہنے میں ہی عافیت ہے۔
اگر آپ کی معلومات کے مُطابِق اِمام صاحب کسی مَسئلے میں غَلَطی کر رہے ہوں تو آپ اِبتداءً کسی صحیحُ العقیدہ، سُنّی مفتی صاحِب سے وہ مَسئلہ اچھی طرح سمجھ لیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اِمام صاحب دُرُست ہوں اور آپ غَلَطی پر ہو ں یا اِمام صاحب خود عالِم ہوں اور وہ اس مسئلے کی دَلیل رکھتے ہوں۔اگر اِمام صاحب ہی غَلَطی پر ہوں تو پھر بھی آپ اچھی طرح غور و فکر کر لیجیے کہ کیا یہ ایسی غَلَطی ہے کہ جس کی اِصلاح شرعاً ضَروری ہے اور یہ بھی دیکھ لیجیے کہ کیا یہ بات آپ اِمام صاحب کو سمجھا پائیں گے؟ اگر سمجھانا ضَروری ہو اور آپ اس کی اِستطاعت بھی رکھتے ہوں تو اب سب کے سامنے ٹوکنے اورسمجھانے کے بجائے حِکمتِ عملی سے کام لیتے ہوئے وہی مَسئلہ کسی مستند کتاب مثلاً”بہارِ شریعت“یا”فتاویٰ
________________________________
1 - جامع صغیر، حرفُ الکاف ، ص۴۰۲، حدیث : ۶۴۶۲ دار الکتب العلمیة بیروت