تو اگر وہ نمازیوں کے آگے سے نہ گُزرے ، نہ ہی لوگوں کی گردنیں پھلانگے اور نہ ہی بار بار سُوال کرے تو اُسے دے سکتے ہیں چنانچہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّتفرماتے ہیں:اگر وہ شخص پیشہ ور فقیر ہے تو اُسے دینا ، چاہے مسجد میں ہو یا عِلاوہ مسجد، بہرصورت منع ہے اور اگر وہ شخص خستہ حال مسافر ہے کہ وہاں اُس کا کوئی جاننے والا نہیں اور نہ وہ نمازیوں کو پھلانگتا ہے ، نہ ہی بار بار سُوال کرتا ہے تو اُسے دینا جائز ہے۔ (1)
اِمام صاحب اورکمیٹی کے ساتھ رَوَیَّہ
سُوال :مسجد میں مدنی کام کرنے کے لیے اِمام صاحب اور کمیٹی کے ساتھ کیسا رَوَیَّہ ہونا چاہیے ؟
جواب:مسجد میں مدنی کام کرنا ہو یا عِلاقے میں، دِینی کام ہو یا دُنیوی اس میں حِکمتِ عملی اور نرمی اِختیار کرنے والا ضَرور کامیاب ہوتا ہے۔جس طرح ایک تاجِر گاہک کو اپنا بنانے کے لیے اس کے ساتھ حُسنِ اخلاق اور نرمی سے پیش آ کر بالآخر اُس سے اپنا مقصد حاصل کر لیتا ہےتو اسی طرح دِین کا کام کرنے والوں کو بھی حُسنِ اَخلاق کاپیکر اور نرمی کا خُوگر ہونا چاہیےلہٰذا اِمام صاحب اور کمیٹی کے ساتھ حُسنِ اَخلاق کا مُظاہرہ کیجیے، حکمتِ عملی اور نرمی سے پیش آئیے اور ہرگز کسی بھی
________________________________
1 - فضائلِ دُعا،ص ۲۷۹مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی