Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط22: نظر کی کمزوری کے اَسباب مَع عِلاج
11 - 31
جواب:اِس مسئلہ میں مسجد و فنائے مسجد دونوں  کا ایک ہی حکم  ہے کیونکہ مسجد میں  سُوال کی ممانعت کی وجہ وہاں شُور و غُل ہے تو  فنائے مسجد میں  بھی شُور و غل کی اجازت نہیں۔ مسجد یا فنائے مسجد میں اپنی ذات کے لیے سُوال  کرنے کی دو صورتیں ہیں:پہلی صورت یہ ہے کہ مانگنے والا مجبور و لاچار نہیں بلکہ پیشہ ور بھکاری ہے تو اُسے  سِرے سے سُوال کرنا ہی حلال نہیں  چہ جائیکہ مسجد ہو  یا بازار اور ایسے کو اِس کے سُوال پر کچھ دینا بھی  ثواب نہیں بلکہ گناہ ہے جیسا کہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیۡہِ رَحۡمَۃُ الرَّحۡمٰن فرماتے ہیں: قوی  (طاقتور) تندرست قابلِ کسب  (کمانے کے لائق)  جو بھیک مانگتے پھرتے ہیں ان کو دینا گناہ ہے کہ ان کا بھیک مانگنا حرام ہے اور ان کو دینے میں اس حرام پر مدد، اگر لوگ نہ دیں تو جھک ماریں اور کوئی پیشہ حلال اِختیار کریں۔ دُرِّمختار میں ہے:یہ حلال نہیں کہ آدمی کسی سے روزی وغیرہ کا سُوال کرے جبکہ اس کے پاس ایک دن کی روزی موجود ہو یا اس میں اس کے کمانے کی طاقت موجود ہو جیسے تندرست کمائی کرنے والا اور اسے دینے والا گنہگار ہوتا ہے اگر اس کے حال کو جانتا ہے کیونکہ حرام پر اس نے اس کی مدد کی۔ (1) 
دوسری صورت یہ ہے کہ سائل پیشہ ور بھکاری نہیں بلکہ کوئی محتاج  مسافر ہے



________________________________
1 -     فتاویٰ رضویہ، ۲۳/۴۶۳ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور