Brailvi Books

نشے باز کی اصلاح کا راز
28 - 32
 کہ یہ اُس وقت کی بات ہے جب میری رہائش رحیم یار خان میں  تھی۔ وہاں  غوثیہ مسجد میں  ایک عاشقِ رسول اسلامی بھائی سبز سبز عمامے کا تاج سجائے تشریف لاتے اور بعد نمازِ مغرب فیضانِ سنّت سے درس دیا کرتے۔ میں  بھی درس میں  شریک ہو جاتا ۔امیرِاہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ کے تحریر کردہ الفاظ کانوں  کو بہت بھلے معلوم ہوتے۔ میں  نے ان سے چند روز کیلئے فیضانِ سنّت حاصل کی اور   اس کا مطالعہ کرنے لگا۔ جو ں جوں  میں فیضانِ سنّت پڑھتاگیا میری سوچ و فکر بدلتی گئی۔ پہلے ہمہ وقت دل و دماغ پر غفلت طاری رہتی مگر اب فیضانِ سنّت پڑھنے کے بعد میرے سوچ و فکریکسر بدل گئی۔ میری سوچ وفکر میں  تبدیلی کیسے نہ آتی کہ کتاب بھی تو اس ولیٔ کامل کی تھی کہ جن کی مخلصانہ کاوشوں  کی بر کت سے آج لاکھوں  لاکھ مسلمان سنّتوں  کے آئینہ دار بن چکے ہیں۔ اس کے بعد ہم راولپنڈی شفٹ ہو گئے۔ جب یہاں  نماز پڑھنے کے لئے مسجد حاضر ہوا تو نماز کے بعد یہاں  بھی درسِ فیضانِ سنّت کاسلسلہ دیکھ کر بہت خوش ہوا اور ذوق و شوق سے درسِ فیضانِ سنّت میں  شریک ہو کر اپنی خالی جھولی کو علم وحکمت کے انمول موتیوں  سے بھرنے لگا۔ درسِ فیضانِ سنّت کے بعد اسلامی بھائی نہایت پرتپاک طریقے سے ملاقات کرتے۔ مجھے ان کے نورانی چہروں  پر سجی مسکراہٹ بہت اچھی لگتی۔ میں  ان کے اخلاق و کردار سے بے حد متأثر ہو چکا تھا۔ انہوں  نے شفقت