فرماتے ہوئے مجھے بھی درس دینے کا طریقہ سکھا دیا۔ چنانچہ میں بھی درس دینے کی سعادت پانے لگا مگر بدقسمتی سے اب تک چہرے پر داڑھی شریف سجانے سے محروم تھا۔ اسلامی بھائی سمجھا تے کہ داڑھی شریف سے اپنے چہرے کو منور کر لیجئے زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اپنی قبر میں داڑھی شریف کا نور ساتھ لے جائیں۔ کیا بعید اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی برکت سے ہماری مغفر ت فرما دے خوش قسمتی سے ایک دن ایک اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے امیرِ اہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ کاانقلابی رسالہ بنام کالے بچھو پیش کیا۔ اسے پڑھ کر میں کانپ اٹھا مجھ پر رقت طاری ہو گئی۔ خوفِ خدا کااس قدر غلبہ ہوا کہ میں نے اسی وقت داڑھی شریف منڈوانے سے سچی توبہ کی اور اپنے چہرے کو داڑھی شریف کے نور سے پر نور، سر کو سبز سبز عمامے کے تاج سے سبز اور ہمیشہ کے لئے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے گناہوں بھری راہ چھوڑ دی اور نیکیوں کی جانب قدم بڑھا دیے۔ تادمِ تحریر ذیلی نگران کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
مجلسِ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ {دعوتِ اسلامی} شعبہ امیرِاہلسنّت
۱۳ربیع الغوث۱۴۳۳ھ بمطابق 07مارچ 2012ء