بھائی نے دعوت پیش کی کہ نماز کے بعد فیضانِ سنّت کا درس ہوتا ہے آپ بھی شرکت فرمایا کریں۔ میں نے درس میں شریک ہونے کی نیت کر لی۔ چونکہ میں سنتیں اور نوافل مسجد کے صحن میں ادا کرتا تھا اس وجہ سے مجھے پتہ ہی نہ چلا کہ درس تو مسجد کے اندر ہوتا ہے۔ جب میں اس بات سے آگاہ ہوا تو ایک دن درسِ فیضانِ سنّت سننے بیٹھ گیا۔ مجھے درس اس قدر پسند آیا کہ اب تو میں نے روزانہ شرکت کا معمول بنا لیا۔ کچھ عرصے بعد میں نے ملتان کالج میں داخلہ لے لیا میری خوش قسمتی کہ وہاں بھی دعوتِ اسلامی سے وابستہ اسلامی بھائیوں سے میری ملاقات ہو گئی۔ ایک دن ایک اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے باب المدینہ (کراچی) میں ہونے والے مدنی قافلہ کورس میں شرکت کا ذہن دیا۔ جب میں امتحان دے کر فارغ ہوا تو مدنی قافلہ کورس کرنے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ جا پہنچا۔ مدنی قافلہ کورس کی بھی کیا بات ہے اس نے تو میری سوچ یکسر بدل کر رکھ دی۔ مدنی قافلہ کورس کے دوران ہی ہمارے ڈویژن مشاورت کے نگران نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے درسِ نظامی (عالم کورس) کرنے کا ذہن دیا۔ میں نے گھر والوں کو راضی کیا اور درسِ نظامی میں داخلہ لے لیا۔ جب میں درجہ ثالثہ (تیسرے سال) میں تھا تو امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ کے ترغیب دلانے پر 12 ماہ کے مدنی قافلے کا مسافر بن گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر میں بارہ ماہ