Brailvi Books

نادان عاشق
9 - 32
بھی عقیدہ تھا کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمیں  دیکھتے سنتے نہیں  اورنہ ہی ہماری باطِنی حالت سے آگاہ ہیں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ مجھ پر حق آشکار(یعنی ظاہر) ہو گیا کہ سرکارِ نامدار،مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمارے نام تو کیا، دلوں  کی کیفیت سے بھی خبردار ہیں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں  نے عقائدِ باطِلہ سے سچّی توبہ کرلی۔ وہ دن اورآج کادن میرے چِہرے پر ایک مُٹّھی داڑھی ہے، سر پر عمامے کا تاج اورجسم پرسنّت کے مطابق مَدَنی لباس رہتا ہے اور ہمارا ساراگھرانا مَدَنی رنگ میں  رنگ چکا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی شان دیکھئے کہ جس عاشقِ رسول نے مجھے دوکان پر آ کر دعوت دی تھی اور جنہوں  نے بعدِاجتماع مجھ پر اِنفِرادی کوشِش فرمائی تھی وہ ترقّی کرتے کرتے دعوت ِاسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رُکن بن چکے ہیں ! یہ بیان دیتے وَقت میں  تقریباً دس سال سے مَدَنی ماحول میں  ہوں اورتین سال سے مسلسل مَدَنی قافلوں  میں  سفر کی سعادت مُیَسَّر ہو رہی ہے۔اِس دَوران تحصیل مُشاوَرَت کے نگران کی ذِمّے داری اورتین بار بنگلہ دیش میں  عاشقانِ رسول کے ہمراہ مَدَنی قافِلوں  میں  سفرسے مُشرَّف ہو چکا ہوں۔ اَللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں استِقامت عنایت فرمائے، اِخلاص کے ساتھ مَدَنی کام کرنے کی سعادت اور ایمان وعافیت کے ساتھ مدینے کی گلی میں  شہادت