بن گیا جس سے میرے دل میں دین کی محبت بڑھنے لگی اور میں اپنے تمام سابقہ گناہوں اور بری عادات سے تائب ہو کر مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر حلقہ مشاورت کے خادم(نگران)کی حیثیت سے سنّتوں کی خدمت کے لیے کوشاں ہوں۔
اللہعَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{16}عشقِ مجازی کا نشہ ہرن ہوگیا
گلزارِطیبہ(سرگودھا،پنجاب )کے مقیم اسلامی بھائی کی تحریرکا خلاصہ ہے: برے دوستوں کی صحبت،فضول مشاغل اوربدنگاہی کی عادتِ بدکے سبب میں ایک لڑکی کے عشق میں گرفتارہوگیا،دل ودماغ ہروقت اس کے خیالات میں مگن رہتے ۔ معاشرے میں اس سلسلے میں جوگناہ ہوتے ہیں میں بھی ان میں مصروف رہتا جن کی وجہ سے میری عزت خاک میں مل گئی ،لوگ مجھ سے نفرت کرنے لگے۔ میری ان حرکتوں پر والدین اوردوست احباب بھی نالاں تھے، بارہا سمجھانے کے باوجود مجھ پرکوئی بات اثرنہ کرتی یہاں تک کہ والدین نے مجھ سے بیزاری کا اظہارکرتے ہوئے گھر سے نکالنے کی دھمکی دی ، مجھ پر تو عشق کابھوت سوار تھا اس لیے ان کی کسی بات کوبھی خاطر میں نہ لاتا حتی