گردی کرتے رہنا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ ایک روز میرے ایک کلاس فیلو نے مجھے تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا تعارف پیش کیا کہ ’’یہ عشقِ رسول کی شمع تھامے راہِ شریعت پر گامزن ایک ایسی تحریک ہے جس سے وابستہ اکثرو بیشتر افراد سر تا پا اتباعِ سنّت کا نمونہ ہیں۔ ہر جمعرات کو مغرب کی نمازکے بعد دعوتِ اسلامی کاہفتہ وار سنتوں بھرا اجتماع ہوتا ہے آپ بھی سنّتوں کی تربیت کیلئے اس اجتماع میں شرکت فرمایا کریں۔‘‘ میں نے سوچا ایک بار شرکت کرنے میں کیا حرج ہے! لہٰذا ایک دن میں بھی اجتماع میں شریک ہو گیا۔ جب وہاں کے روح پرور مناظر دیکھے تو دل کوبڑی فرحت ملی خصوصاً اجتماع کے بعداسلامی بھائیوں کی آپس میں ملاقات کے انداز نے تو مجھے حیران کر دیا کہ نہ توآپس میں کوئی جان پہچان، نہ ہی کوئی رشتہ داری اس کے باوجود ایک دوسرے سے کیسے پرجوش انداز میں مسکرا کر مصافحہ و معانقہ کر رہے ہیں اس کا مجھ پر گہرا اثر پڑا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں پابندی سے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہونے لگااور امیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے بیعت ہوکرآپ کی نگاہِ فیض اثر سے نہ صرف گناہوں بھری زندگی سے تائب ہو گیا بلکہ ۱۴۱۹ھ بمطابق 1999ء میں اپنے والدین سے اجازت لے کرپنجاب سے باب المدینہ (کراچی ) آگیا اور دعوتِ اسلامی کے تعلیمی ادارے ’’جامعۃ المدینہ‘‘ میں داخلہ لے کرحصولِ علمِ دین میں مشغول ہو گیا۔