اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی۔اُن کے دل موہ لینے والے انداز سے متأثر ہو کر میں نے اسی وقت نہ صرف نیت کر لی بلکہ ان اسلامی بھائی کا دل خوش کرنے کے لیے اجتماع میں بھی شریک ہو گیا۔ اس اجتماع کی برکت سے مجھے خوفِ خدا اور عشقِ مصطفی کی دولت نصیب ہوئی جس کی بدولت مجھے گناہوں سے نفرت اور نیکیوں سے محبت نصیب ہوئی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں اپنے گناہوں سے توبہ کر کے نیکی کی راہ پرگامزن ہو چکا ہوں۔
اللہعَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{8}حق کامُتلاشی
وزیرآباد(ضلع گوجرانوالہ،پنجاب،پاکستان) کے ایک اسلامی بھائی کی تحریر کا خلاصہ ہے:میں عقائد کے مُتعلّق تردُّد کا شکار تھا، مذہبِ حق کی تلاش میں بھٹکتا پھر رہا تھا مگر مجھے کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا کہ کون سامذہب حق ہے؟ حتی کہ میں نے مساجد میں نماز پڑھنا ہی ترک کر دیا۔اب گھر پرہی نماز پڑھ لیا کرتا۔ ایک عرصے تک یہی سلسلہ جاری رہا، پھر محلہ کی مسجدکے امام صاحِب کے سمجھانے پر دوبارہ مسجد میں نماز پڑھنے لگا، ایک دن مسجد میں کچھ اسلامی بھائیوں نے مجھے قلبی سکون حاصل کرنے کے لئے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع