سعادت حاصل ہوگئی۔ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکت سے گناہوں سے نفرت اور نیکیوں سے محبت نصیب ہوگئی ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں چاہئے کہ سفرمیں ہوں یاحضر میں ،گھر میں ہوں یادوکان میں ،جہاں بھی ہوں انفرادی کوشش کرتے ہوئے دوسروں کو نیکی کی دعوت دیتے رہیں۔کیامعلوم کہ زبان سے ادا کئے ہوئے چندالفاظ رب تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہوجائیں اورہماری آخرت سنورجائے۔
اللہعَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{7}دل موہ لینے والا انداز
ایک اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے: میں نیکیوں سے دور اور دنیا کی محبت میں چُور سر تاپاگناہوں کی دلدل میں دھنسا ہوا معاشرے کا بدترین فرد تھا۔ ایک دن جمعۃُالمبارک کی نمازکے بعدایک باریش اسلامی بھائی میرے پاس تشریف لائے، سنتوں کے پیکراس عاشقِ رسول کے چہرے پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔انہوں نے آگے بڑھ کر انتہائی گرم جوشی اور خندہ پیشانی کے ساتھ معانقہ کیا اور مصافحہ کے دوران نہایت نرمی سے میرا نام اور حال احوال دریافت کرنے کے بعد ہر جمعرات کو نمازِمغرب کے بعد ہونے والے دعوتِ