کے ساتھ مِل کرراہ چلتے لوگوں کو ستانا میری عادت میں شامل تھا، ان بری خصلتوں کے باعِث میں نے نہ صرف اپنے گھر والوں بلکہ اپنے محلّے والوں کی ناک میں دم کر رکھا تھا۔ آخرکار گھر والوں نے مجھے سُدھارنے کی غرض سے محلے کی مسجد میں قراٰنِ پاک کی تعلیم کے لیے بھیج دیا امام صاحب نے محنت و شفقت کے ساتھ مجھے پڑھانا شروع کیا۔ ایک دن ایک مبلّغِ دعوتِ اسلامی مدرسے میں تشریف لائے انہوں نے سنّتوں بھرے بیان کے دوران مدنی ماحول کی برکتیں بیان فرمائیں اور نیکی کی دعوت دیتے ہوئے انتہائی عاجزی کے ساتھ ہمیں بھی ہر جمعرات کو محلّے میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے سُنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی ترغیب دِلائی۔ چنانچہ ان کی انفرادی کوشش کی بَرَکت سے ہم نے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ اجتماع میں مُبلّغِ دعوتِ اسلامی نے انتہائی پُرسوز انداز میں بیان کیا جسے سن کر مجھے اپنے گناہوں پر ندامت ہونے لگی خوفِ خدا کے باعث مجھ پر رِقَّت طاری ہو گئی، مجھے اپنی عمر کے یوں بداعمالی میں گزرنے کا احساس ہونے لگا ۔ میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حضور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی مُعافی مانگی ،توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مَدنی ماحول کو اپنا لیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ یہ بیان دیتے وقت میں 63دن کا