Brailvi Books

نادان عاشق
12 - 32
میرے والدصاحب کوبھی اجتماع کی دعوت پیش کی ،والدصاحب نے اپنی طبیعت کی ناسازی(خرابی)کی وجہ سے معذرت کی تووہ کہنے لگے کہ’’اگرآپ نہیں  جا سکتے تواپنے بیٹے کوہی بھیج دیجئے‘‘ ان کی انفرادی کوشش رنگ لائی اوروالِد صاحب نے مجھے اُن کے ساتھ اجتماع میں  شرکت کرنے کاحکم ارشاد فرما دیا۔ بالآخر میں  اجتماع میں شریک ہوا اور توجہ کے ساتھ بیان سننے لگا،بیان سن کر تو میرے دل کی دُنیا زیر و زبرہوگئی اور جب رِقّت انگیز دُعا ہوئی تو خوفِ خدا مجھ پر غالِب آ گیا میری آنکھوں  سے ندامت کے آنسوؤں  کاتانتابندھ گیا اور میں  نے رو رو کر اپنے سابِقہ گناہوں  سے سچی پکی توبہ کرلی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں  دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مَدَنی ماحول سے مُنسلِک ہوگیا اورسر پر سبز سبز عمامے شریف کا تاج اور چہرے پرمیٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیہ وَاٰلہٖ وسَلَّمکی پیاری پیاری سُنّت (داڑھی شریف) بھی سجالی۔
اللہعَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{5}گناہوں  پرندامت ہونے لگی
	کال(ضلع چکوال ،پنجاب،پاکستان)کے ایک اسلامی بھائی کی تحریرکا خلاصہ ہے:دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں معاشرے کابگڑا ہوا فردتھا،گانے باجوں  اورفلموں  ڈراموں  کا رَسیاتھا، آوارہ دوستوں