Brailvi Books

مردے کی بےبسی
25 - 27
کہ  اب ضَرورت نہیں ،نہ کھولی تو بھی حَرَج نہیں ۱؎  خکفن کی گرہ کھولنے والا یہ دعا پڑھے: اَللّٰہُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَہٗ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَہٗ۔۲؎  ترجمہ: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! ہمیں اس کے اَجر سے محروم نہ کر اورہمیں اس کے بعد فتنے میں نہ ڈال خ  قَبْر کچّی اینٹوں ۳؎ سے  بند کردیں اگر زَمین نَرْم ہو تو( لکڑی کے) تختے لگانا بھی جائز ہے ۴؎   خ اب مِٹّی دی جائے، مستحب یہ ہے کہ سرہانے کی طرف سے دونوں ہاتھوں سے تین بار مٹّی ڈالیں۔پہلی بارکہیں مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ    ۵؎دوسری بار وَفِیْھَا نُعِیْدُ کُمْ۶؎   تیسری بار وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی۷؎   کہیں۔اب باقی مِٹّی پھاؤڑے وغیرہ سے ڈال دیں  ۸؎    خ جتنی مِٹّی قَبْر سے نکلی ہے اُس سے زیادہ ڈالنا مکروہ ہے ۹؎   خہاتھ میں جو مٹّی لگی ہے، اسے جھاڑ دیں یا دھو ڈالیں اختیار ہے۱۰؎خ قبر چَوکُھونٹی (یعنی چار کونوں والی )  نہ بنائیں بلکہ اِس میں ڈھال رکھیں جیسے اونٹ کا کوہان، (دفن کے بعد) اِس پر پانی چھڑکنا بہتر ہے ، قبر ایک بالشت اونچی ہو یا معمولی سی زائد۔ ۱۱؎دفن کے بعد قبرپر اذان دینا کارِ ثواب اور میِّت کے لئے نہایت نفع بخش ہے۱۲؎خ مستحب یہ ہے کہ دفن کے بعد قبر پر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
    ۱؎ عالمگیری ج۱ص۱۶۶،جوہرہ ص۱۴۰، ۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ص۶۰۹،۳؎قبر کے اندرونی حصّے میں آگ کی پکّی ہوئی اینٹیں لگانا منع ہے مگر اکثر اب سیمنٹ کی دیواروں اور سلیب کا رواج ہے لہٰذا سیمنٹ کی دیواروں اور سیمنٹ کے تختوں کا وہ حصّہ جو اندر کی طرف رکھنا ہے کچی مِٹّی کے گارے سے لیپ دیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ مسلمانوں کو آگ کے اثر سے محفوظ رکھے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ۔۴؎ بہارِشریعت ج۱ص۸۴۴،۵؎ ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا۔۶؎اور اسی میں تمہیں پِھرلے جائیں گے۔  ۷؎  اور اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے۔ ۸؎  جوہرہ ص۱۴۱ ،   ۹؎  عالمگیری ج۱ص۱۶۶، ۱۰؎ بہار شریعت  جلداوّل ص۸۴۵،۱۱؎  بہار شریعت ج ۱ ص ۸۴۶ مُلَخَّصاً، عالمگیری ج۱ ص۱۶۶،رد المحتار ج۳ص۱۶۸،  ۱۲؎ ماخوذ از فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۵ ص۷۰ ۳