Brailvi Books

مردے کی بےبسی
24 - 27
میں مُردے دَفن کر د ئیے جاتے ہیں تاکہ جانور اور دوسری چیزیں ان کی اہانت(یعنی توہین) نہ کریں خصالحین(یعنی نیک بندوں ) کے قریب دفن کرنا چاہئے کہ اُن کے قُرْب کی بَرَکت اسے شامل ہوتی ہے، اگر مَعاذَاﷲ  مستحقِ عذاب (یعنی عذاب کا حقدار)بھی ہوجاتا ہے تو وہ شَفاعت کرتے ہیں ، وہ رَحمت کہ اُن پر نازل ہوتی ہے اسے بھی گھیر لیتی ہے۔حدیث میں ہے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : ’’اپنے اَموات(یعنی مُردوں ) کو اچّھے لوگوں کے ساتھ دفن کرو۔‘‘۱؎  (فتاوٰی رضویہ ج۹ص۳۸۵)خ رات کو دَفن کرنے میں کوئی حَرَج نہیں ۲؎خایک قبر میں ایک سے زیادہ بِلا ضَرورت دَفن کرنا جائز نہیں اور ضَرورت ہو تو کر سکتے ہیں ۳؎خ جنازہ قبر سے قبلے کی جانِب رکھنا مُسْتَحب ہے تاکہ میِّت قبلے کی طرف سے قبر میں اتاری جائے۔ قَبْر کی پائِنْتی(یعنی پاؤں کی جانِب والی جگہ)رکھ کر سَر کی طرف سے نہ لائیں ۴؎   خ حسبِ ضَرورت دو یاتین اور بہتر یہ ہے کہ قَوی اور نیک آدَمی َقَبْر میں اُتریں ۔ عورَت کی میِّت مَحارِم اُتاریں یہ نہ ہوں تو دیگر رِشتے دار یہ بھی نہ ہوں تو پرہیز گاروں سے اُتر وائیں ۵؎  خ  عورت کی میِّت کواُتارنے سے لے کر تختے لگانے تک کسی کپڑے سے چُھپائے رکھیں خ  قَبْر میں اُتارتے  وَقْت یہ دُعا پڑھیں :بِسْمِ اللہِ وَبِاللہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ  رَسُوْلِ اللہ ۶؎    خ میِّت کو سیدھی کروٹ پر لِٹائیں اور اُس کا مُنہ قبلے کی طرف کر دیں اورکفن کی بندِش کھول دیں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱؎  حلیۃ الاولیاء ج ۶ ص ۳۹۰ رقم ۹۰۴۲، ۲؎جوہر ہ ص۱۴۱ ، ۳؎ بہار شریعت  جلداوّل ص۸۴۶، عالمگیری ج۱ ص۱۶۶ ، ۴؎   بہارِ شریعت  ج۱ص۸۴۴، ۵؎  عالمگیری ج ۱ ص۱۶۶،  ۶؎   تنویر الابصار ج۳ص۱۶۶