سورۂ بقرہ کا اوّل و آخِر پڑھیں ، سرہانے(یعنی سر کی جانب)الٓـمّٓتامُفْلِحُوْن تک اور پائنتی(پا۔ئِن۔تی یعنی پاؤں کی طرف)اٰمَنَ الرَّسُوۡلُسے ختم سورت تک پڑھیں ۱؎ خ دفن کے بعد قبر کے پاس اتنی دیر تک ٹھہرنا مُستحب ہے جتنی دیر میں اونٹ ذَبح کر کے گوشت تقسیم کر دیا جائے، کہ ان کے رہنے سے میِّت کو اُنس ہو گا اور نکیرین(نَ۔کی۔رَین) کا جواب دینے میں وَحشت نہ ہوگی اور اتنی دیر تک تلاوتِ قرآن اور میِّت کے لیے دُعا و استغفار کریں اور یہ دُعا کریں کہ سُوالِ نکیرین کے جواب میں ثابِت قدم رہے۲؎ خشجرہ یا عَہد نامہ قبر میں رکھنا جائز ہے اور بہتر یہ ہے کہ میِّت کے منہ کے سامنے قبلے کی جانب طاق کھود کر اس میں رکھیں ، بلکہ’’ دُرِّمختار‘‘ میں کفن پر عہد نامہ لکھنے کو جائز کہا ہے اور فرمایا کہ اس سے مغفِرت کی اُمّید ہے اور میِّت کے سینے اور پیشانی پر بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ لکھنا جائز ہے۔ ایک شخص نے اس کی وصیّت کی تھی، انتقال کے بعد سینہ اور پیشانی پر بِسم اﷲ شریف لکھ دی گئی پھر کسی نے انھیں خواب میں دیکھا، حال پوچھا، کہا: جب میں قبر میں رکھا گیا، عذاب کے فرشتے آئے، فرشتوں نے جب پیشانی پر بِسم اﷲ شریف دیکھی کہا: تو عذاب سے بچ گیا۔ (دُرِّمُختار، غُنیہ، عَنِ التّاتار خانیہ) یوں بھی ہو سکتا ہے کہ پیشانی پر بِسم اﷲ شریف لکھیں اور سینے پر کلمۂ طیِّبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم مگر نہلانے کے بعد کفن پہنانے سے پیشتر کلمے کی انگلی سے لکھیں روشنائی(INK) سے نہ لکھیں ۳؎ خ قبرسے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱؎ بہار شریعت ج۱ ص ۸۴۶، ۲؎ ایضاً، ۳ بہار شریعت ج۱ ص ۸۴۸، رد المحتار ج۳ص۱۸۶