Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
26 - 952
حدیث نمبر 26
روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی ہیں فرمایا الله سے میرے لیے وسیلہ مانگو ۱؎ صحابہ نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم وسیلہ کیا چیز ہے فرمایا بہشت میں سب سے اونچا درجہ جسے صرف ایک شخص پائے گا ۲؎ اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ میں ہی ہوں گا۳؎ (ترمذی)
شرح
۱؎ خیال رہے کہ مقام وسیلہ حضور انور کے لیے ہی نہیں بنایا گیا ہے حضور کے نامزد ہوچکا ہے،پھر ہم سے دعا کرانا اس لیے ہے تاکہ اس دعا کے ذریعہ ہم کو بھی کچھ مل جاوے۔کریموں کو دعائیں دینا بھیک مانگنے کا ایک طریقہ ہوتاہے    ؎

قلب کی صورت غنچہ بستہ اس کوکرم سےکردوشگفتہ	 	دے گا دعائیں حافظ خستہ صلی الله علیہ وسلم

درود شریف پڑھنے کا بھی یہ ہی مقصد ہے،اذان کے بعد جو دعائے وسیلہ پڑھی جاتی ہے اس کا ماخذ یہ ہی حدیث ہے۔

۲؎  اس کی بحث اذان کے بیان میں گزرگئی۔اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ وسیلہ جنت میں سب سے بلندوبالا مقام ہے جو صرف حضور انور کے لیے ہے باقی سب کے لیے اس کے نیچے کے مقامات ہیں،حتی کہ فردوس والے جنتی بھی اس کے نیچے ہوں گے۔محشر میں مقام محمود ہی ہے اور اگر وہاں بھی وسیلہ ہے تو وہ دوسرا مقام ہے۔

۳؎  یہاں ارجو فرمانا بے علمی یا بے یقینی کی وجہ سے نہیں بلکہ تواضعًا ہے یا یوں کہو کہ کریم کی امید بھی یقینی ہوتی ہے۔
Flag Counter