Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
208 - 952
حدیث نمبر208
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی جب وفات ہوئی تو آپ کے دفن میں لوگوں نے اختلاف کیا ۱؎ تو ابوبکر صدیق نے کہا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ایک بات سنی ۲؎ کہ الله نے کسی نبی کو وفات نہیں دی مگر اس جگہ جہاں ان کا دفن کیا جانا پسند تھا۳؎ حضور کو آپ کے بستر کی جگہ میں ہی دفن کرو ۴؎ (ترمذی) ۵؎
شرح
۱؎ چنانچہ بعض صحابہ نے کہا کہ حضور کو مکہ معظمہ میں دفن کیا جاوے،بعض نے کہا بیت المقدس میں جہاں حضرات انبیاءکرام سورہے ہیں،بعض نے کہا کہ مدینہ منورہ میں جنت البقیع میں(اشعہ و مرقات)بلکہ بعض نے کہا کہ حضور انور کو دفن کیا ہی نہ جاوے(مرقات)تاکہ تاقیامت لوگ اس چاند کا دیدار کرتے رہیں۔

۲؎ صحابہ نے پہلے تو حضرت صدیق اکبر سے پوچھاکہ کیا حضور انور کو دفن کیا جاوے گا فرمایا ہاں،پھر پوچھا کہ کہاں،فرمایا وہاں ہی جہاں وفات ہوئی ہے۔(شمائل مرقات)

۳؎ یعنی جس جگہ الله تعالٰی کو یا ان رسول کو دفن ہونا پسند تھا وہاں ہی ان کو وفات دی گئی لہذا رب کو یہی پسند ہے کہ حضور انور حضرت عائشہ کے حجرہ میں دفن ہوں تاکہ آپ سے جگہ کو عزت ملے کسی جگہ سے آپکو عزت نہ ملے۔خیال رہے کہ حضرت موسیٰ نے دعا کی کہ مجھے فلسطین پہنچاکر وفات دی جاوے چنانچہ وہاں ہی آپ کی وفات اور آپ کا دفن واقع ہوئے۔ یوسف علیہ السلام اولًا مصر میں دفن ہوئے اپنی جائے وفات میں،پھر چار سو برس کے بعد آپ کا تابوت فلسطین لایا گیا۔یعقوب علیہ السلام زندگی شریف میں فلسطین پہنچے پھر وہاں وفات پاکر دفن ہوئے لہذا ان واقعات سے اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ یہ حضرات اپنی وفات کی جگہ دفن نہ ہوئے یا یہ کہو کہ نبی جس جگہ وفات پائیں اس جگہ انکا دفن ہونا بہتر ہے،اگر اور جگہ دفن کردیئے جائیں تو بہتر نہ ہوگا غرضکہ یہاں ذکر بہتری کا ہے نہ کہ واقع کا ۔

۴؎ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے کہ حضور انور اپنے گھر میں دفن ہوئے کیونکہ آپ کا گھر آپ کی وفات کے بعد کسی وارث کی ملک نہ بنا بلکہ وقف ہوگیا اور وقف میں قبر بنائی جاسکتی ہے،پھر حضرت صدیق و فاروق اس وقف شدہ جگہ میں حضور کے پہلو میں دفن ہوئے۔ہم لوگ اپنے گھر میں دفن نہیں ہوسکتے یوں ہی ہم مسجد میں دفن نہیں ہوسکتے کہ مسجد اور قسم کا وقف اور قبر دوسری قسم کا وقف۔

۵؎  ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے اس کی اسناد میں عبدالرحمن ابن ابوبکر ملکی یہ ضعیف ہے۔(مرقات)مگر یہ ضعف ترمذی کے لیے ہے صدیق اکبر کے لیے نہیں کیونکہ یہ حدیث دوسری اسنادوں سے بھی مروی ہے۔مالک نے یہ حدیث یوں روایت کی کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد بعض لوگوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر شریف کے پاس دفن کرو،بعض نے کہا کہ بقیع میں تب جناب صدیق نے یہ فرمایا اور حجرہ عائشہ صدیقہ میں قبر کھودی گئی۔(مرقات)
Flag Counter