روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنی تندرستی میں فرماتے تھے کہ الله تعالٰی کسی نبی کو وفات نہیں دیتا حتی کہ انہیں ان کاجنتی مقام دکھا دیا جائے ۱؎ پھر انہیں اختیار دیا جاوے،جناب عائشہ فرماتی ہیں کہ جب حضور پر نزع طاری ہوا اور آپ کا سر میری ران پر تھا ۲؎ تو آپ پر غشی آگئی پھر افاقہ ہوا تو اپنی نظر چھت کی طرف اٹھائی پھر فرمایا لٰہی میں نے اوپر کے ساتھی قبول کیے۳ ؎میں بولی کہ اب حضور ہم کو نہیں اختیارکریں گے فرماتی ہیں کہ میں پہچان گئی کہ یہ وہ ہی حدیث ہے جو حضور ہم کو اپنی تندرستی میں خبر دیتے تھے۴؎ اس فرمان کے متعلق کہ کوئی نبی وفات نہیں دیا جاتا حتی کہ اسے اس کا جنتی مقام دکھادیا جاتا ہےپھر اختیار دیا جاتا ہے جناب عائشہ فرماتی ہیں کہ آخری بات جو حضور نے کی وہ یہ ہی تھی کہ میں نے اپنے اوپر کے ساتھی قبول کیے۔(مسلم و بخاری)
شرح
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ نبی کو بیداری میں ان کا جنتی مقام دکھاکر انہیں اختیار دیا جاتا ہےاور یہ اختیار دینا ان کی عظمت کے اظہار کے لیے ہوتا ہے ورنہ رب ان کے وقت موت کو جانتا ہے اور وہ حضرات وہ ہی اختیار کرتے ہیں جو رب کا فیصلہ ہے۔(اشعہ) ۲؎ پہلے حضور کا جسم اطہر جناب عائشہ صدیقہ کی گود میں اور سر شریف آپ کے سینہ پر تھا،چونکہ اس طرح جانکنی میں تکلیف ہوتی ہے اس لیے عین قبض روح کے وقت حضور انو ر کو سیدھا قبلہ رو لٹایا گیا اور سر شریف ام المؤنین کی ران پر رکھا لہذا یہ حدیث اس گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں جس میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے سینے اور گلے کے درمیان ہوئی۔ ۳؎ رفیق اعلیٰ یعنی اوپر کے ساتھیوں کے متعلق بیان کیا جاچکا ہے۔بعض شارحین کا خیال ہے کہ حضور کے چار ساتھی زمین کے ہیں یعنی خلفاء راشدین اور چار ساتھی آسمان کے: حضرت جبریل،میکائیل،اسرافیل،عزرائیل علیہم السلام یہاں رفیق اعلیٰ سے وہ مراد ہیں۔واللّٰہ ورسولہ اعلم! ۴؎ یعنی اس حدیث کا ظہور اب ہورہا ہے۔