Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
207 - 952
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر207
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو حبشی بچے اپنے نیزوں سے کھیلتے تھے آپ کی تشریف آوری کی خوشی میں ۱؎ (ابوداؤد اور دارمی کی روایت میں یوں ہے کہ میں نے کوئی دن نہ برا اور نہ بہت تاریک دیکھا اس دن سے جس میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وفات پائی ۲؎ اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ جب وہ دن تھا جس میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف فرما ہوئے تو مدینہ کی ہر چیز چمک گئی ۳؎ پھر جب وہ دن ہوا جس میں حضور نے وفات پائی تو مدینہ کی ہر چیز تاریک ہوگئی اور ہم نے مٹی سے اپنے ہاتھ نہ جھاڑے حالانکہ ہم حضور کے دفن میں مشغول تھے حتی کہ ہم نے اپنے دلوں کو غیر پایا ۴؎
شرح
۱؎ حراب چھوٹا نیزہ،بعض روایات میں بحناجرھم ہے یعنی حضور انور کی تشریف آوری کی خوشی میں مدینہ منورہ میں رہنے والے حبشی لوگ نیز ہ بازی یا خنجر بازی کرنے لگے کہ نیزے یا خنجروں کو لے کر یہ لوگ ناچتے کودتے تھے اپنے کرتب دکھاتے تھے۔معلوم ہوا کہ خوشی میں بچوں کا گانابجانا،کھیل کود کرنا جائز بلکہ سنت صحابہ سے ثابت ہے۔عیدمیلاد کے موقعہ پر جلوس نکالنا اور جلوس کے آگے تلوار نیزہ گتکہ پٹا وغیرہ لےکر کرتب دکھانا سب جائز ہے۔جس طریقہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کی جائےدرست ہے۔اس موقع پر بنی نجار کی بچیاں بھی دف بجاتی تھیں اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف اشارہ کرکے گاتی تھیں،حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی خوشی میں شریک ہونا اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے۔

۲؎ یہ عبارت بالکل ظاہری معنی پر ہے اس میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں۔ واقعی اس دن سورج نکلا تھا دھوپ بھی تھی مگر سورج میں بھی تاریکی اور سیاہی تھی اور دھوپ میں بھی وفات شریف کا اثر ہر درودیوار پر ظاہر تھا۔یہ غلط احساس نہ تھا کیوں نہ ہوتا کہ یہ فراق رسول کا دن ہے جیسے شہادت امام حسین کے روز سارا دن سرخ خونی رنگ تھا اورجو پتھر وغیرہ اٹھایا گیا اس کے نیچے خون نمودار ہوا۔

۳؎ یہ چمک دھوپ سے نہ تھی بلکہ قدرتی نورانیت تھی جو بیان میں نہیں آسکتی صرف دیکھنے سے ہی تعلق رکھتی ہے جیسے قیامت میں نورانی چمک ہوگی،رب فرماتاہے:"وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوۡرِ رَبِّہَا"۔آج بھی بعض اہلِ بصر باخبر حضرات کو کبھی یہ تجلی ربیع الاول کی بارہویں تاریخ دن میں بلکہ رات میں بھی اور شبِ قدر میں نظر آتی ہے۔فرق یہ ہے کہ اس دن وہ تجلی سب کو نظر آتی تھی اب کسی قسمت والے کو نظر آتی ہے،یہاں مرقات نے فرمایا کہ یہ چمک محسوس تھی۔

۴؎ یعنی ابھی ہم حضور انور کے دفن سے فارغ نہیں ہوئے تھےکہ ہمارے دلوں میں وہ نورانیت،صفائی،نرمی رغبت الی الله نہ رہی جوکہ حضور کی حیات شریف میں تھی کیونکہ اب وحی آنا بند ہوگئی،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جمال کا مشاہدہ ختم ہوگیا، تعلیم و تائید ظاہری انتہاء کو پہنچ گئی۔(مرقات و اشعہ)غرضکہ ایمانی حالت تصدیق میں فرق آنا مراد نہیں۔خیال رہے کہ حضور سب کچھ دے گئے مگر اپنا دیدار ساتھ لے گئے جس سے لوگ صحابی بنتے تھے اس لیے تاقیامت حاجی،قاری،قاضی نمازی بنتے رہیں گے مگر صحابی نہ بنیں گے کیونکہ صحابی بنانے والی چیز تو قبر انور میں چھپ گئی     ؎

خوشا وہ وقت کہ دیدار عام تھا اس کا 		خوشا وہ وقت کہ طیبہ مقام تھا اس کا 

ہم خواب میں دیدار کو بھی ترس گئے    ؎

تم آتے خواب میں ہم پتلیاں تلوو ں سے مل لیتے 	ہم اپنی سوئی قسمت کو جگاتے اپنی آنکھوں سے
Flag Counter