Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
206 - 952
حدیث نمبر206
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی الله علیہ وسلم کی بیماری سخت ہوگئی تو آپ پر بے چینی چھانے لگی ۱؎ جناب فاطمہ بولی ہائے اباجان کی تکلیف۲؎ تو فرمایا کہ آج کے بعد تمہارے باپ کو تکلیف اب کبھی نہ ہوگی۳؎ پھر جب وفات پائی تو فاطمہ بولیں ہائے ابا جان آپ نے اپنے رب کا بلاوا قبول کرلیا۴؎ ہائے ابا جان آپ کا مقام تو جنت الفردوس ہوگیا ہائے ابا جان ہم جبریل کو تعزیت دیتے ۵؎ پھر جب دفن کیے گئےتو جناب فاطمہ بولیں کہ اے انس کیا تمہارے دلوں نے گوارہ کیا رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم پر مٹی ڈالو ۶؎ (بخاری)
شرح
۱؎ کرب سے مراد یا شدت مرض ہے یا بے چینی یا سخت تکلیف جس سے غشی آجاوے۔

۲؎ یعنی اب میں کیا کروں آپ کی تکلیف مجھ سے دیکھی نہیں جاتی دفع کرنے یا اپنے پر لینے سے مجبور ہوں۔

۳؎ یعنی اے بیٹی تیرے باپ پر بس یہ آخری تکلیف ہے اس کے بعد کبھی تکلیف نہ ہوگی کیونکہ اب میں دار التکلیف سے رخصت ہورہا ہوں وہاں جارہا ہوں جہاں راحت ہی راحت ہے۔

۴؎ یعنی ابا جان آپ نے ہم کو بے کس چھوڑ دیا اپنے رب کا بلاوا قبول کرلیا اب میں کہاں جاؤں کسے ابا کہہ کر پکاروں تم نے مجھے کس پر چھوڑا۔

۵؎ یعنی آپ تو جنت کو سدھار گئے ہم کو یہاں تڑپتا چھوڑ گئے،ہم حضرت جبریل کو آپ کی خبر وفات سنائیں جن کا اب زمین پر آنا وحی لانا ختم ہوگیا۔

۶؎ یعنی اے انس تم نے کن ہاتھوں اور کس دل سے حضور انور پر قبر کی مٹی ڈالی اورتم نے کیسے اس چاند کو قبر میں چھپایا تم سے یہ کیسے برداشت ہوا۔خیال رہے کہ سیدہ کے یہ الفاظ نہ تو نوحہ ہیں نہ بے صبری بلکہ حضور کے فراق پر بے چینی ہے جو بذات خود عبادت ہے۔ نوحہ یہ ہے کہ میت کے ایسے اوصاف بیان کیے جاویں جو اس میں نہ ہوں اور پیٹا جاوے۔بے صبری یہ ہے کہ رب تعالٰی کی شکایت کی جاوے،جناب سیدہ ان دونوں سے محفوظ ہیں۔یہ بھی خیال رہے کہ دنیا میں پانچ حضرات بہت روئے ہیں: حضرت آدم علیہ السلام فراق جنت میں،حضرت نوح علیہ السلام و یحیی علیہ السلام خوف خدا میں،حضرت فاطمہ زہرا فراق رسول الله صلی الله علیہ وسلم میں،حضرت امام زین العابدین واقعہ کربلا کے بعد حضرت حسین کی پیاس یاد کرکے۔جناب سیدہ زینب فرماتی تھیں    ؎

صبت علی مصائب لوانھا  		صبت علی الایام صرن لیالیا

مجھ پر ایسی مصیبتیں پڑیں کہ اگر روز روشن پر پڑتیں تو وہ شب تاریک بن جاتی۔
Flag Counter