Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
205 - 952
حدیث نمبر205
روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ نہیں بیمار ہوتے کوئی نبی مگر انہیں دنیا و آخرت کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے ۱؎ اور آپ اپنے اس مرض میں تھے جس میں وفات دیئے گئے تو آپ کو سخت خراٹے نے پکڑ لیا۲؎ میں نے آپ کو کہتے سنا کہ ان لوگوں کے ساتھ جن پر تو نے انعام فرمایا یعنی انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ۳؎ تو میں نے جان لیا کہ آپ کو اختیار دے دیا گیا ۴؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی ساری مخلوق کی موت اضطراری ہوتی ہے مگر حضرت انبیاءکرام کی وفات اختیاری کہ پہلے انہیں رب کی طرف سے اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہیں تو دنیا ہی میں رہیں چاہیں تو ہمارے پاس آجاویں،جو کہتے ہیں کہ نبی ہماری طرح ہوتے ہیں وہ اس حدیث میں غور کریں،وہ حضرات زندگی و موت اور ان کے ہر شعبہ میں دوسروں سے ممتاز ہوتے ہیں۔

۲؎ بحۃ ب کے پیش ح کے شد سے بمعنی کھانسی یا خراٹہ یا غرغرہ یعنی گہری سانس جو تکلیف سے لی جاوے جسے اردو میں سلگی کہتے ہیں یعنی آخری سانس۔

۳؎ یعنی خدایا اب میں دنیا میں رہنا نہیں چاہتا میں تیرے ان مقبول بندوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں،یا الله ہم گنہگاروں کو بھی ان مقبولوں کی ہمراہی نصیب فرما  ؎

گر محمد کا ساتھ ہوجائے 			پھر تو سمجھو نجات ہوجائے

۴؎ یعنی رب العالمین نے حضور انورصلی الله علیہ وسلم کو اختیار دیا اور حضورصلی الله علیہ وسلم نے ہم سے منہ موڑ کر ان حضرات کی ہمراہی قبول فرمالی،اب حضورصلی الله علیہ وسلم کی روانگی ہے حضورصلی الله علیہ وسلم کا یہ کلام رب کے فرمان کا جواب ہے۔
Flag Counter