۱؎ اس طرح کہ وفات شریف کے وقت حضور صلی الله علیہ وسلم حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ کے سینہ پر تکیہ لگائے تھے اس وقت آپ کا سینہ عرش اعظم سے افضل تھا ؎
جس کا پہلو ہو نبی کی آخری آرمگاہ جن کے حجرہ میں قیامت تک نبی ہیں جاگزیں
۲؎ یہ ام المؤمنین پر رب تعالٰی کا دوسرا احسان عظیم ہے کہ آخری فیض حضور انور کا انہیں اس طرح نصیب ہوا۔اس وقت آپ وہ عبادات کر رہی تھیں جو عرش و فرش میں کسی کو میسر نہ تھی۔خیال رہے کہ جیسے حضور انور کی نظر سے نظر ملنا حضور کے ہاتھ سے ہاتھ ملنا،حضور کے قدم سے کسی کا سر ملنا الله کی بڑی نعمت ہے یونہی حضورصلی الله علیہ وسلم کے لعاب سے لعاب ملنا بھی اس کی بڑی نعمت بلکہ یہ آخری نعمت اور خاص کر اس آخری وقت میں جب کہ حضور کے ظاہر فیوض بظاہر ختم ہو رہے تھے صرف حضرت ام المؤمنین ہی کو نصیب ہوئی۔
۳؎ یا تو عبدالرحمن کو دیکھ رہے ہیں یا انکے ہاتھ کی مسواک کو اور یہ دیکھنا محبت کی نگاہ سے ہے۔
۴؎ یہ حیات شریف کی آخری ساعتیں تھیں اس وقت نقاہت بہت زیادہ ہوگئی تھی اس لیے زبان شریف سے ہاں نہیں فرمایا بلکہ سر مبارک کی ہلکی سی جنبش سے اشارہ فرمایا۔
۵؎ یعنی مسواک نئی تھی سخت تھی اسے آپ اپنے منہ سے چباکر نرم نہ کرسکے۔خیال رہے کہ مقبولین بارگاہ پر یہ کمزوری بدنی ہوتی ہے روحانی نہیں روح ان کی بہت قوی ہوتی ہے لہذا یہ اعتراض نہیں کہ جب وہ خود اتنے کمزور ہوجاتے ہیں تو بعد وفات کسی کی مدد کیا کریں گے۔
۶؎ جانکنی کے وقت حرارت اور تپش بہت ہوتی ہے اس لیے اس وقت میت کو پانی پلایا بھی جاتا ہے اور وضو بھی کرایا جاتا ہے کہ پانی کی ٹھنڈک سے تسکین ہوتی ہے،حضور انور کا اپنے منہ پر پانی پھیرنا اس میں بھی امت کو اس عمل کی تعلیم ہے۔
۷؎ سکرات جمع ہے سکرۃ کی بمعنی غشی،نشہ۔موت کی سختی کو سکرۃ اس لیے کہتے ہیں کہ اس سے مرنے والے کو غش پر غش آتے ہیں،چونکہ موت کی سختی کئی قسم کی ہوتی ہے اسلیے سکرات جمع ارشاد ہوا۔بدن کی رگ رگ سے جان کا نکلنا آسان نہیں،حضورصلی الله علیہ وسلم پر یہ سختی ساری امت کے لیے تسکین خاطر کا باعث ہے کہ کوئی شخص اس سختی سے گھبرا نہ جاوے اپنے نبی کی سکرات کو پیش نظر رکھے،حضورصلی الله علیہ وسلم کی ہر ادا بے چین دلوں کا چین ہے،اس موقعہ پر لا الہ الا الله فرمانا بھی تسکین دل کے لیے ہے الله کے ذکر سے چین آتا ہے"اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ"یہ کلمات اس قدر آہستہ کہے ہوں گے صرف ام المؤمنین کان لگا کر سن سکیں۔الله کے مقبول بندے بعض حالات میں دنیاوی باتیں نہیں کرسکتے مگر ذکر الله کرتے ہیں جیسے زکریا علیہ السلام ایک موقع پر تین دن تک کسی سے کلام نہ کرسکے مگر ذکر الله کرتے رہے اسی طرح حضور انور نے اس وقت مسواک زبان سے نہ مانگی مگر یہ ذکر کے الفاظ زبان سے ادا کیے۔
۸؎ رفیق بنا ہے رفق سے بمعنی نرمی یا بمعنی قرب,یہ ایک اور جماعت سب پر بولا جاتا ہے جیسے صدیق یا خلیط.اس سے مراد یا تو جماعت ملائکہ ہے یا جماعت انبیاء کرام یا رب تعالٰی کی ذات،حدیث شریف میں ہے الله رفیق یحب الرفق،یا اس سے مراد ہے جنت کیونکہ وہ رفق یعنی نرمی کی جگہ ہے غرضکہ اس میں بہت احتمال ہیں۔(مرقات،اشعہ)ہاتھ شریف کے گود میں گر جانے پر جناب ام المؤمنین کو آپ کی وفات کا علم ہوا۔