| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے شہداء احد پر آٹھ سال کے بعد نماز پڑھی ۱؎ زندوں مردوں کو رخصت فرمانے والوں کی طرح ۲؎ پھر آپ منبر پر چڑھے فرمایا کہ میں تمہارے آگے پیشرو ہوں۳؎ اور میں تمہارا نگران گواہ ہوں۴؎ اور تمہارے وعدہ کی جگہ حوض ہے ۵؎ اور میں اسے اپنی اس جگہ سے دیکھ رہا ہوں ۶؎ اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کی گئیں ۷؎ میں تم پر یہ خوف نہیں کرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے ۸؎ لیکن میں تم پر دنیا کا خوف کرتا ہوں کہ تم اس میں رغبت کر جاؤ اور بعض نے یہ زیادتی کی پھر تم جنگ کرو تو اسی طرح ہلاک ہوجاؤ جیسے تم سے پہلے والے ہلاک ہوئے ۹؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ شوافع کہتے ہیں کہ یہاں صلوۃ سے مراد دعاءمغفرت ہے نہ کہ نماز جنازہ،ان کے ہاں شہید پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جاتی مگر یہ بات قوی نہیں کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم ہر سال شہداء احد کی زیارت کرتے اور انکے لیے دعاء مغفرت فرماتے تھے پھر اس دعا کا ذکر خصوصیت سے کیوں ہوا اللھم الا ان یقال کہ یہ دعاء خصوصی تھی۔یعنی دعاء وداع جس میں وداعیہ کلمات تھے۔ہمارا قوی جواب یہ ہے کہ حضور انور نے شہداء احد کی آج نماز جنازہ پڑھی آٹھ سال بعد نماز جنازہ پڑھنا حضور انور کی خصوصیت ہے،بعض روایت میں اس کی تصریح بھی ہے کہ یہ نماز جنازہ تھی لہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ شہید پر نماز جنازہ پڑھی جاوے گی اس کی مفصل بحث صلوۃ جنازہ میں گزرچکی۔ ۲؎ یعنی اس دعا یا نماز جنازہ سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ حضور انور زندہ اور مردہ مسلمانوں کو وداع فرمارہے ہیں،زندوں کو اس لیے کہ اب وفات کا وقت قریب ہے لوگ اب حضور کی زیارت نہ کر سکیں گے،مردوں کو اس لیے کہ اب مردوں کے لیے حضورصلی الله علیہ وسلم کی دعائیں وغیرہ بند ہونے والی ہیں یہ واقعہ مرض وفات شروع ہونے سے پہلے ہوا۔ ۳؎ فرط بمعنی فارط ہے جیسے تبع بمعنی تابع۔فرط وہ شخص ہے جو کسی جماعت سے آگے منزل پر پہنچ کر ان کے طعام قیام وغیرہ تمام ضروریات کا انتظام کرے جس سے وہ جماعت آکر ہر طرح آرام پائے۔مطلب یہ ہے کہ میں تم سے پہلے جارہا ہوں تاکہ تمہاری شفاعت تمہاری نجات تمہاری ہر طرح کارسازی کروں،تم میں سے جو بھی ایمان پر فوت ہوگا وہ میرے پاس میری حفاظت میرے انتظام میں اس طرح آوے گا جیسے مسافر اپنے گھر آتا ہے بھرے گھر میں۔(از اشعہ)مؤمن مرتے ہی حضور کی پاس پہنچتا ہے بلکہ بعض مؤمنوں کی جانکنی کے وقت حضور انور انہیں لینے تشریف لاتے ہیں جیساکہ امام بخاری کا واقعہ ہوا اور بہت مرنے والوں سے سنا گیا کہ حضورصلی الله علیہ وسلم آگئے۔خیال رہے کہ چھوٹے فوت شدہ بچوں کو بھی فرط فرمایا گیا ہے مگر وہ فرط ناقص ہیں حضور انور فرط کامل یعنی ہر طرح کے منتظم،نیز ایدیکم میں خطاب ساری امت سے ہے نہ کہ صحابہ کرام سے حضور اپنی امت کے دائمی منتظم ہیں۔ ۴؎ اس کی تائید اس آیت سے ہے"وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمْ شَہِیۡدًا"شہید بمعنی نگران گواہ ہے نہ کہ فقط گواہ ورنہ علیٰ نہ آتا بلکہ لام آتا۔شہادت کے ساتھ اگر علیٰ ہو تو خلاف گواہی مراد ہوتی ہے یعنی اے مسلمانوں میں تمہارے ایمان،اعمال قلبی حالات کا علیم و خبیر و حفیظ و نگراں ہوں،تم سب کے ایمان کی نبض پر میرا ہاتھ ہے،مجھے ہرشخص کے ایمان اور درجہ ایمان کی ہر وقت خبر ہے۔اس کی نہایت لذیذ و نفیس تفسیر ہماری تفسیرنعیمی پارہ دوم کے شروع میں ملاحظہ کرو۔ ۵؎ یعنی میں نے جس شفاعت خاصہ کا تم سے وعدہ کیا ہے وہ شفاعت حوض کوثر پر کروں گا۔(مرقات)یا قیامت میں میری تمہاری خصوصی ملاقات کی جگہ حوض کوثر ہے۔(اشعہ)اس صورت میں یہاں خصوصی ملاقات مراد ہے ورنہ حضور کی ملاقات حضور کا دیدار تو مؤمن کو قبر میں ہی نصیب ہوتاہے پھر قیامت میں بہت جگہ دیدار ہوگا،بعض لوگ بعد وفات تاقیامت حضور ہی کے پاس رہتے ہیں اللھم اجعلنامنہم۔ ۶؎ یہ ہے حضور کا حاضروناظر ہونا کہ مدینہ منورہ میں کھڑے ہوئے اس حوض کوثر کو دیکھ رہے ہیں جو جنت میں ہے اور جنت ساتوں آسمان سے اوپر ہے ،جس کی نگاہ مدینہ سے جنت تک کو دیکھ سکتی ہے اس کی نظر ساری روئے زمین کو یہاں کے رہنے والوں کو بھی دیکھ سکتی ہے کیونکہ زمین حوض کوثر سے قریب ہے۔ ۷؎ اس طرح کہ مجھے زمین کے تمام خزانوں کا مالک مختار قاسم بنایا جسے جو ملے گا ہماری عطا سے ملے گا۔فرماتے ہیں الله المعطی وانا قاسم۔اشعہ نے فرمایا کہ یہ تو ظاہری خزانوں کا حال ہے رہے باطنی خزانے سو آسمان و زمین ملک و ملکوت کی چابیاں حضور کو عطا ہوئیں ؎ دی کنجی تمہیں اپنے خزانوں کی خدا نے سرکار کیا مالک و مختار بنایا ۸؎ یعنی مجھے یہ خطرہ نہیں کہ تم سارے یا تم عمومًا کافر ہو جاؤ لہذا یہ فرمان عالی اس کے خلاف نہیں کہ حضور انور کے بعد چند لوگ مرتد ہوگئے۔(مرقات) ۹؎ امام نووی نے فرمایا کہ اس میں حضور کے بہت سے معجزات کا ذکر ہے کہ حضور انور نے بہت سی غیبی خبریں دیں جو ہوبہو پوری ہوئیں۔