Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
196 - 952
حدیث نمبر196
روایت ہے ابو الجوزاء سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ مدینہ کے لوگ سخت قحط میں مبتلا ہوگئے تو انہوں نے جناب عائشہ سے شکایت کی۲؎ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی طرف غور کرو اس سے ایک طاق آسمان کی طرف بنادو۳؎ حتی کہ قبر انور اور آسمان کے درمیان چھت نہ رہے لوگوں نے ایسا کیا تو خوب برسائے گئے حتی کہ چارہ اُگ گیا اور اونٹ موٹے ہوگئے۴؎حتی کہ چربی سے گویا پھٹ پڑے تو اس سال کا نام پھٹن کا سال رکھا گیا۵؎(دارمی)
شرح
۱؎  آپ کا نام او س بن عبد اللہ ہے،ازدی ہیں،بصری ہیں،تابعی ہیں،      ۸۳ ؁ تراسی ہجری میں شہید کئے گئے،بہت صحابہ سے ملاقات کی ہے۔

۲؎ شکایت یہ کی کہ بارش نہیں ہوتی چیزیں مہنگی ہوگئیں،مقصد یہ تھاکہ آپ رب سے دعا کریں ۔معلوم ہوا کہ آسمانی آفات کی شکایت اللہ کےمقبول بندوں سےکرسکتے ہیں۔

۳؎  یعنی میرے حجرے کی چھت قدر ے پھاڑ  دو تاکہ قبر انور اور آسمان کےدرمیان کو ئی آڑ نہ رہے۔یہ طریقہ تھا قبر انور کےوسیلہ سے بارش مانگنے کا حضرت عائشہ صدیقہ نے اپنے اجتہاد سے یہ طریقہ اختیار فرمایا۔

۴؎ مرقات شریف ا ور اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ حضور انور کی حیات شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے توسل سےدعائیں مانگتے تھے،بعد وفات جناب عائشہ صدیقہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور بلکہ اس کی خاک کی برکت سے دعاکرائی یہ بھی درحقیقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے وسیلے سے دعا ء ہے یہ طریقہ بہت مبارک ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ وفات یافتہ بزرگوں کے وسیلہ سے دعائیں کرنا جائز ہے۔دوسرے یہ کہ ان کے تبرکات کے وسیلہ سے دعائیں کرنا جائز بلکہ سنت صحابہ ہے۔تیسرے یہ کہ بزرگوں کی قبریں باذن الٰہی دافع البلاء اور مشکل کشا ہیں،یوسف علیہ السلام کی قمیض دافع البلاء تھی کہ اس کی برکت سے یعقوب علیہ السلام کی آنکھیں روشن ہوگئیں(قرآن مجید)ایوب علیہ السلام کے پاؤں کا دھوون شفا تھا(قرآن مجید)"اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ"اس کی تحقیق ہماری کتاب فہرست القرآن میں دیکھو۔بعض صوفیا ننگے سر آسماں کےنیچے بیٹھ کر دعائیں یاوظیفے کرتے ہیں یہ حدیث ان کی اصل ہے۔خیال رہے کہ آسمان ہماری روزی کا خزانہ ہے"وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَ مَا تُوۡعَدُوۡنَ"لہذا آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاکر یا قبر انور کی چھت کھول کی دعا کرنا جائز ہے۔

۵؎  یعنی قبر انو رکی برکت سے بارش نہ تو بہت زیادہ ہوئی جو کھیتیاں برباد کرے  نہ بہت تھوڑی جو کافی نہ ہو،نہ بے وقت ہوئی بلکہ بروقت ہوئی اور بقدر ضرورت ہوئی جو بے ضرر بلکہ نہایت مفید ہوئی،یہ واقعہ حضرت عائشہ صدیقہ کی کرامت ظاہر کررہا ہے۔
Flag Counter