Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
197 - 952
حدیث نمبر197
روایت ہے سعید ابن عبدالعزیز سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ جب جنگ حرہ کا زمانہ ہوا ۲؎ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں تین دن نہ اذان کہی گئی نہ تکبیر کہی گئی اور سعید ابن مسیب مسجد سے نہ ہٹے ۳؎ وہ نماز کا وقت نہیں پہچانتے تھے مگر ایک گنگناہٹ سے جسے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر سے سنتے تھے ۴؎(دارمی)
شرح
۱؎ آپ تنوحی دمشقی ہیں،اہل شام کے مفتی ہیں،بڑے متقی زاہد تھے،امام اوزاعی کے ہم زمانہ ہیں،امام احمد فرماتے ہیں کہ آپ کے زمانہ میں آپ اور امام اوزاعی بڑے ثقہ تھے۔

۲؎ یہ واقعہ یزید ابن معاویہ کے زمانہ کربلا کے واقعہ کے بعد ہوا،اس مردود نے مسلم ابن عقیل کے سرکردگی میں مدینہ منورہ پر حملہ کردیا اہلِ مدینہ پر بڑے ظلم ڈھائے،چونکہ یہ حملہ مقام حرہ کی طرف سے ہوا تھا اس لیے اسے جنگ حرہ کہا جاتا ہے۔حرہ مدینہ منورہ کے باہر ایک پتھریلا میدان ہے،یہ واقعہ  ۶۳ھ؁ میں ہوا۔یہاں مرقات میں ہے کہ اہل مدینہ نے ایک شامی قافلہ کو تاراج کردیا اس پر یہ واقعہ پیش آیا،حرہ کے واقعہ کے بعد ہی یزید ہلاک ہوگیا،حرہ ذی الحجہ  ۶۳ھ؁ میں ہوا۔

۳؎ سعید ابن مسیب تابعی ہیں،انہوں نے چالیس حج کیے،بڑے عابد زاہد تھے، ۷۳ھ؁ تہتر میں وفات پائی،زمانہ حرہ میں لوگ سمجھتے کہ آپ دیوانہ ہوگئے ہیں۔

۴؎ قبر انور سے نماز کے اوقات میں آواز آنا حضور انور کا معجزہ تھا اوراس آواز کا سعید ابن مسیب کا سن لینا یہ کرامت ہے اس لیے یہ حدیث اس باب میں لائی گئی۔
Flag Counter