| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے ابن منکدر سے ۱؎ کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت سفینہ ۲؎ روم کی زمین میں لشکر سے بہک گئے یا قید کرلیے گئے ۳؎ وہ بھاگتے ہوئے چلے لشکر کی تلاش کرتے تھے کہ اچانک شیر سامنے تھا تو بولے اے ابو الحارث کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوں ۴؎ میرا واقعہ ایسا ایسا ہوا ہے تو شیر دم ہلاتا ہوا آیا حتی کہ ان کی برابر کھڑا ہوگیا ۵؎ جب کوئی آواز سنتا تو ادھر چلا جاتا پھر آپ کی برابرچلنے لگتا حتی کہ یہ لشکر تک پہنچ گیا پھر شیر لوٹ گیا ۶؎(شرح سنہ)
شرح
۱؎ محمد ابن منکدر تیمی مشہور تابعی ہیں،بہت صحابہ سے آپ کی ملاقات ہے، ۱۳۰ ھ ایک سوتیس میں وفات ہوئی،ستر۷۰ سال سے زیادہ عمر ہوئی۔ ۲؎ حضرت سفینہ جناب ام سلمہ کے غلام ہیں آپ نے انہیں آزاد کیا اس شرط پر کہ زندگی بھر حضور کی خدمت کریں،انہوں نے عرض کیا کہ میں اس شرط کے بغیر بھی حضور ہی کے پاس رہوں گا۔ایک سفر میں حضور انور اور بعض صحابہ نے ان پر اپنا سامان لاد دیا حضور انور نے فرمایا کہ تم ہمارا سفینہ ہو یعنی کشتی ہو اس دن سے آپ کا نام سفینہ ہوگیا اور پہلا نام گم ہو گیا،جو آپ سے آپ کا نام پوچھتا تھا تو فرماتے تھے کہ اب میں سفینہ ہوں مجھے حضور نے جو بنا دیا میں وہ ہی بن گیا۔(اشعہ،مرقات)آپ کا نام رباح یا مہران یا رومان ہے والله اعلم! آپ کے بیٹے عبدالرحمن،محمد،زیاد،کثیر ہیں۔(اکمال) ۳؎ غالبًا یہ واقعہ خلافت معاویہ کا ہے کیونکہ روم پر حملے آپ ہی کے زمانہ سے شروع ہوئے۔جناب سفینہ اسی کسی جہاد میں قید کرلیے گئے،راتوں رات بھاگ کر لشکر اسلام کی تلاش میں جارہے تھے کہ یہ واقعہ پیش آیا۔ ۴؎ اس ازلی مشکل میں حضرت سفینہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کو یاد کیا یہ نہ کہا کہ اے شیر میں اللہ کا بندہ ہوں کیونکہ شیر کہہ سکتا تھا کہ تم گائے بکری مرغی کو جو اللہ کے بندے ہیں کھالیتے ہو تو میں تجھ اللہ کے بندے کو کھا سکتا ہوں۔اس سے پتہ لگا کہ مشکل کے وقت اچھوں کی نسبت کام آجاتی ہے،بعض بزرگ اپنے پیر کا نام لے کر دریاسے گزرگئے ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔ ۵؎ اور زبان حال سے گویا یہ کہنے لگا۔شعر شیر کہیاسفینے تائیں سن راہی راہ جاندے جو غلام رسول اللہ دے اسیں غلام اونہاندے اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ جانور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضور کے غلاموں کو پہچانتے ہیں۔دوسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور حضور کی نسبت دافع بلا مشکل کشا ہے۔تیسرے یہ کہ جانور اولیاء اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔چوتھے یہ کہ اولیاء اللہ کے دلوں میں مخلوق کا خوف نہیں،جناب سفینہ شیر سے ڈرے نہیں بھاگے نہیں مگر بعض وقت انہیں خوف ایذا ہوجاتا ہے جیسے موسیٰ علیہ السلام کو سانپ یا فرعون سے ایذا کا خوف ہوا۔ ۶؎ شیر نے حضرت سفینہ کی حفاظت بھی کی اور رہبری بھی،پتہ لگا کہ شیر کو لشکر اسلام کا پتہ تھا کہ کہاں ہے جیسے بعض کھانوں کی خوشبو دور تک پہنچتی ہے ایسے ایمان و تقویٰ کی خوشبو جانوروں کو بلکہ بعض اولیاء کو دور سے محسوس ہوتی ہے۔دیکھو ایک شیر نے ابولہب کے بیٹے عتبہ کا منہ سونگھ کر اسے پھاڑ دیا تھا وہ پہچان گیا کہ گستاخ کا منہ یہ ہے۔اسی طرف قصیدہ بردہ نے اشارہ کیا ؎ ومن تکن برسول الله نصرتہ ان تلقہ الاسر فی اجامھا نجم