Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
189 - 952
حدیث نمبر189
روایت ہے حضرت حرام ابن ہشام سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا حبیش ابن خالد سے راوی وہ ام معبد کے بھائی ہیں ۱؎ کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب مکہ معظمہ سے باہر کیے گئے آپ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرکے روانہ ہوئے آپ اور ابوبکر صدیق اور ابوبکر کے غلام عامر ابن فہیرہ اور ان کے رہبر عبدالله لیثی ام معبد کے خیمے پر گزرے ۲؎  انہوں نے آپ سے گوشت چھوہارے مانگے تاکہ ان سے خریدیں انہوں نے یہ کوئی چیز ام معبد کے پاس نہ پائی یہ حضرات بے توشہ تھے۳؎  تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک بکری دیکھی جو خیمے کے کنارہ میں تھی فرمایا اے ام معبد یہ بکری کیسی ہے انہوں نے عرض کیا کہ یہ ایسی بکری ہے جسے دبلے پن نے بکریوں سے پیچھے کردیا ہے۴؎ فرمایا گیا اس میں دودھ ہے وہ بولیں کہ وہ اس سے بہت دور ہے ۵؎ فرمایا کیا تم مجھے اجازت دیتی ہو کہ اسے دوھ لوں بولیں آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر آپ اس میں دودھ دیکھیں تو دوھ لیں۶؎  اسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بلایا اس کے تھن پر اپنا ہاتھ پھیرا الله تعالٰی کا نام لیا اور ان کے لیے ان کی بکری میں دعا کی تو اس نے ٹانگیں چیر دیں ۷؎  اور دودھ اتار لائی جگالی کرنے لگی تو حضور نے ایسا برتن منگایا جو ایک جماعت کو سیراب کردے اس میں دوہا چھلکتا ہوا حتی کہ جھاگ اوپر آگئے ۸؎ پھر حضور نے ام معبد کو پلایا حتی کہ وہ سیر ہوگئیں اور اپنے ساتھیوں کو پلایا حتی کہ وہ بھی سیر ہوگئے پھر انکے آخر میں خود پیا ۹؎ پھر اس میں پہلی بار کے بعد دوہا حتی کہ برتن بھردیا یہ ام معبد کے پاس چھوڑ دیا اور ان سے بیعت لی اور وہاں سے ان سب نے کوچ کردیا ۱۰؎ (شرح سنہ)ابن عبدالبر نے استیعاب میں، ابن جوزی نے کتاب الوفاء اور اس حدیث میں ایک بڑا قصہ ہے۔
شرح
۱؎ ام معبد کا نام عاتکہ بنت خالد خزاعیہ ہے،یہ امیر بی بی تھیں،مسافروں کو کھانا پانی مفت دیتی تھیں،مدینہ منورہ کے راہ میں رہتی تھیں،یہ اس دن یا بعد میں مدینہ منورہ آکر ایمان لائیں۔(مرقات)

۲؎ مکہ معظمہ سے دو حضرات چلے حضور صلی الله علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق،مالک ابن فہیرہ اور عبدالله لیثی بعد میں ملے عبدالله اس وقت کافر تھے۔معلوم ہوا کہ کفار سے دینی کام میں مدد لینا درست ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے ہجرت میں عبدالله لیثی سے رہبری کا کام لیا۔

۳؎  یعنی ان حضرات کو اس وقت کھانے کی سخت ضرورت تھی اور ساتھ میں کھانا نہیں تھا ام معبد کے پاس کھانا نہ خریدا جاسکا کہ ان کی پاس تھا ہی نہیں۔

۴؎  یعنی یہ بکری کمزور دبلی ہے کہ دبلے پن اور کمزری کی وجہ سے دوسری بکریوں کے ساتھ چرنے کے لیے باہر نہیں جاسکتی اس لیے میرے خیمہ میں بندھی ہے۔

۵؎  یعنی یہ بکری اولًا تو بکرے کے پاس نہیں گئی،دوسرے یہ کمزور بہت ہے،تیسرے یہ بیمار ہے اس میں دودھ کہاں سے آیا بیاہی بکری بھی ایسی کمزور ہو تو دودھ نہیں دیتی چہ جائیکہ یہ کنواری بھی ہے۔

۶؎  اگرچہ حضور علیہ السلام نے یہ دودھ الله کی قدرت سے نکالا مگر چونکہ ام معبد کی بکری کے تھن سے نکالا اس لیے ان سے ان تھنوں کے استعمال کی اجازت لی،اب ان سے جو دودھ نکالا وہ حضور انور کی ملک تھا یا ام معبد کی اس میں گفتگو ہے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حضور کی ملک تھا کیونکہ حضور انور نے اس دودھ کے پینے کی ام معبد سے اجازت نہ لی نہ انہیں قیمت دی۔خیال رہے کہ بعض غزوات میں حضور انور نے بدوی کے مشکیزے سے پانی تمام لشکر کو پلا دیا اورپانی اتنا ہی رہا وہاں مشکیزے والے کی اجازت نہ لی،وہاں اپنی ملکیت مطلقہ کا اظہار تھا اور یہاں مسئلہ شریعہ بتانا تھا جیسے ایک دعوت میں ایک آدمی چلا گیا تو حضور نے صاحب خانہ سے اجازت لی اور حضرت جابر کے ہاں سارے لشکر کو بغیر دعوت ہی لے گئے۔

۷؎  بکری دوہتے وقت دوہنے والے کے لیے اپنی ٹانگیں چیر دیتی ہے اور اگر دودھ نہ دینا ہو تو نہیں چیرتی یہاں اس کا ذکر ہے۔

۸؎  یہ ہے چھلکتے کی تفسیر یعنی جھاگ تو اوپر آگئے اور دودھ لبالب بھر گیا۔

۹؎  ترتیب یہ رکھی کہ پہلے ام معبد کو پلایا پھر اپنے ساتھیوں کو پھر آخر میں خود پیا۔اس ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور اس دودھ کے مالک تھے اوریہ سب حضور کے مہمان تھے۔

۱۰؎  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے بکری کو دوبارہ دوہا پہلی بار کا دودھ تو پی لیا پلا دیا دوسری بار کا دودھ خیمہ میں چھوڑ دیا اور ام معبد اسی وقت مسلمان ہوگئیں،پھر جب ام معبد کے خاوند آئے تو انہوں نے گھر میں عجیب خوشبو محسوس کی اور دودھ سے گھربھرا ہوا پایا،تعجب سے پوچھا ام معبد کے جواب کو کسی شاعر نے یوں بیان کیا ہے  ؎

تھوڑی دیر ہوئی اک آیا کالیاں زلفاں والا		 دو گھڑیاں اس گھر وچ بیٹھا کر گیا نور اجالا 	 (مرقات)

اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ مکہ مکرمہ کے بعض پہاڑوں پر یہ شعر سنے گئے

جزی الله رب الناس خیر جزائہ 		رفیقین خلا خیمۃ ام معبد

ھما نزلا بالبر ثم ترحلا			فافلح من امسی رفیق احمد

الله ان دونوں ساتھیوں کو جزاء خیر دے جو ام معبد کے خیمہ میں اترے کچھ دیر رہے پھر کوچ کر گئے۔کامیاب ہے وہ جو محمد مصطفی کا ساتھی بنا۔

تتمہ: حضور صلی الله علیہ وسلم کے معجزات تین قسم کے ہیں: بعض وہ جو آپ کے ساتھ لازم تھے جیسے جسم کا شریف کا بے سایہ ہونا،جسم اقدس سے بے مثال خوشبو وغیرہ،بعض وہ جو آپ کے اختیار میں تھے جیسے چاند چیرنا سورج واپس فرمانا۔بعض بے اختیاری جیسے آیات قرآنیہ کا نزول پھر بعض معجزات وقتی تھے جو حضرات صحابہ نے دیکھے جو آپ نے مشکوۃ شریف میں پڑھ لیے۔بعض معجزات دائمی ہیں جو قیامت تک دیکھے جائیں گے جیسے آیاتِ قرآنیہ کہ ہر آیت حضورصلی الله علیہ وسلم کا معجزہ ہے۔حضور کا ذکر کثیر کہ ہر جگہ آپ کا چرچہ ہے آپ کی محبوبیت کہ بغیر دیکھے دنیا آپ کی عاشق ہے آپ کے نام پر سر کٹا دیتی ہے۔آپ کے اولیاء الله کی کرامات کہ ہر کرامت حضورصلی الله علیہ وسلم کا معجزہ ہے تاقیامت آپ کے دین کا بقاء علماء حقانی کا وجود کہ یہ سب چیزیں حضور کے زندہ جاوید معجزات ہیں۔وقتی معجزات جو روایات میں آگئے وہ تقریبًا چھ ہزار ہیں بلکہ آپ بذات خود معجزہ تھے آپ کا نام معجزہ ہے۔
Flag Counter