Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
190 - 952
باب الکرامات

کرامات کا بیان   ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ کرامات جمع ہے کرامت کی بمعنی تعظیم و احترام،اصطلاح شریعت میں کرامت وہ عجیب و غریب چیز ہے جو ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہو۔حق یہ ہے کہ جو چیز نبی کا معجزہ بن سکتی ہے وہ ولی کی کرامت بن سکتی ہے سواء اس معجزہ کے جو دلیل نبوت ہو جیسے وحی اور آیاتِ قرآنیہ۔معتزلہ کرامات کا انکار کرتے ہیں،اہلِ سنت کے نزدیک کرامت حق ہے۔آصف بن برخیا کا پلک جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس کو یمن سے شام میں لے آنا،حضرت مریم کا بغیر خاوند حاملہ ہونا اور غیبی رزق کھانا،اصحاب کہف کا بے کھانا پانی صدہا سال تک زندہ رہنا کرامات اولیاء ہیں جو قرآن مجید سے ثابت ہیں۔حضور غوث پاک کی کرامات شمار سے زیادہ ہیں۔(اشعہ)حضور انور کے معجزات بے شمار،سرکار بغداد کے کرامات بے شمار،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سب کو عام سرکار بغداد کی ولایت سب کو عام،فرماتے ہیں کہ میرا قدم تمام اولیاء کی گردن پر ہے آپ کی ولایت تا قیامت جاری ہے  ؎

غوث اعظم درمیان اولیاء 			چوں جنابِ مصطفی در انبیاء

ولایت اور کرامات دین کی حقانیت اور اس کے منسوخ نہ ہونے کی دلیل ہیں۔اب عیسائیوں یہودیوں میں کوئی ولی نہیں کیونکہ وہ نبوتیں منسوخ ہوچکیں۔آج سواء اہل سنت کے کسی فرقے میں اولیاء نہیں دیوبندی،وہابی،شیعہ،مرزائی،چکڑالوی کسی دین میں ولی نہیں کیونکہ یہ فرقے باطل ہیں۔جس شاخ کا تعلق جڑ سے قائم نہ رہے وہاں جڑ سے فیض آنا بند ہوجاوے اس شاخ میں پھل پھول نہیں لگتے۔اسلام کی جڑ ہری ہے کہ اس میں اب بھی اولیاء اللہ اور کرامات پائے جاتے ہیں مگر ان فرقوں کا تعلق جڑ سے نہیں دوسرے دینوں کی جڑیں خشک ہوچکیں لہذا ان میں ولایت نہیں۔
حدیث نمبر190
روایت ہے حضرت انس سے کہ اسید ابن حضیر اور عباد ابن بشر ۱؎ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے کاموں کے متعلق بات چیت کرتے رہے حتی کہ رات کا ایک حصہ گزر گیا یہ واقعہ سخت اندھیری رات میں ہوا ۲؎ پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپسی کے لیے نکلے ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چھوٹی لاٹھی تھی تو ان میں سے ایک کی لاٹھی چمک گئی۳؎ حتی کہ وہ دونوں اس کی روشنی میں چلتے حتی کہ جب ان کو راستہ نے علیحدہ کیا تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی تو ان میں سے ہر ایک اپنی لاٹھی کی روشنی میں چلا حتی کہ اپنے گھر پہنچ گیا ۵؎ (بخاری) ۶؎
شرح
۱؎ اسید ابن حضیر انصاری اوسی ہیں،بدروغیرہ میں شریک ہوئے،   ۲۰ھ ؁ بیس میں مدینہ منورہ میں وفات پائی اور عباد ابن بشربھی انصاری ہیں،بدر وغیرہ میں آپ بھی شریک رہے،کعب ابن اشرف یہودی کے قتل میں آپ بھی شریک تھے،جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۴۵ پینتالیس سال کی عمر ہوئی۔(مرقات)

۲؎ یہ حضرات اندھیری رات میں حضور انور کے پاس سے اپنے گھر جانے والے تھے،روشنی کا کوئی سامان نہ تھا تب یہ کرامات ظاہر ہوئیں۔

۳؎ یا تو پوری لاٹھی چمکی ٹیوب کی طرح یا اس کا سرا چمکا بیٹری کی طرح پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں کہ پوری لاٹھی چمکی۔

۴؎  چونکہ اب دونوں صاحبوں کے راستے الگ الگ ہوگئے ایک کی روشنی دوسرے کے لیے کافی نہ تھی اس لیے دوسرے صحابی کی لاٹھی بھی ٹیوب بن گئی،اس کا چمکنا بھی قدرتًا ہوا پہلی لاٹھی کو مس کرکے نہیں ہوا جیساکہ ظاہر ہے۔

۵؎ یعنی گھر پہنچنے پر ان کی روشنی ختم ہوگئی ٹیوب سے لاٹھی بن گئی۔معلوم ہوا کرامت ولی معجزہ کی جنس سے ہوسکتی ہے دیکھو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ید بیضاء عطا ہوا وہ تھا نبی کا معجزہ اور ان صحابیوں کو عصاءبیضاءعطا ہوا یہ تھی کرامت۔

۶؎ بخاری شریف میں یہ واقعہ باب علامات النبوۃ کے آخر میں اور مناقب انصار کے ماتحت باب مناقب اسید ابن حضیر میں نقل فرمایا مگر اس کے الفاظ یہ نہیں،یہ الفاظ مصنف عبدالرزاق اور مستدرک حاکم اور مسند حاکم میں نقل ہوئے۔ (مرقات)
Flag Counter