Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
188 - 952
حدیث نمبر188
روایت ہے حضر ت عاصم ابن کلیب سے وہ اپنے والد سے وہ ایک انصاری سے راوی ۱؎ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے تو میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قبر پر تشریف فرما تھے کھودنے والے کو سمجھاتے تھے فرماتے تھے کہ اس کے پاؤں کی طرف فراخ کرو اس کے سر کی طرف فراخ کرو پھر جب واپس ہوئے تو آپ کے سامنے اس کی بیوی کی طرف سے بلانے والا آیا ۲؎  آپ نے منظور فرمایا ہم آپ کے ساتھ تھے کھانا لایا گیا۳؎ حضور نے اپنا ہاتھ رکھا پھر قوم نے کہ سب کھانے لگے۴؎ تو ہم نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے منہ میں لقمہ پھرا رہے ہیں ۵؎ پھر فرمایا کہ میں ایسی بکری کا گوشت محسوس کرتا ہوں جو اس کے مالک کی بغیر اجازت لی گئی ہے ۶؎  اس عورت نے کہلاکر بھیجا کہ یارسول الله میں نے نقیع کی طرف بھیجا تھا یہ وہ جگہ تھی یہاں بکریاں فروخت کی جاتی تھیں تاکہ میرے لیے بکری خریدے ۷؎ بکری ملی نہیں میں نے اپنے پڑوسی کے پاس آدمی بھیجا جس نے بکری خریدی تھی یہ کہ مجھے وہ بکری قیمتًا بھیج دے وہ ملا نہیں ۸؎ تو میں نے اس کی بیوی کے پاس بھیجا اس نے وہ میرے پاس بھیج دی تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کھانا قیدیوں کو کھلا دو ۹؎ (ابوداؤد،بیہقی دلائل النبوۃ)
شرح
۱؎ خیال رہے کہ تمام صحابہ عادل ہیں ان میں کوئی فاسق نہیں اس لیے صحابی کا نام معلوم نہ ہونا حدیث کو مجہول نہیں کرتا،ہاں صحابہ کے سوا کسی اور راوی کا نام مذکور نہ ہو تو حدیث مجہول ہوجاتی ہے کہ خبر نہیں وہ راوی کون ہے کیسا ہے،فاسق ہے یا عادل۔

۲؎  یعنی عرض کیا یارسول الله میت کی بیوی حضور کو بلا رہی ہے کھانے کی دعوت نہیں تھی جیساکہ الفاظ حدیث سے معلوم ہورہا ہے یہ بات خیال میں رکھی جاوے۔

۳؎ یہاں کھانا دعوت کے طور پر نہیں پکایا گیا تھا نہ حضور صلی الله علیہ وسلم کو دعوتِ طعام کے لیے بلایا گیا تھا اس کے گھر حضور تشریف لے گئے تھے کھانے کا وقت تھا اس نے کھانا بھی پیش کردیا۔فقہاء فرماتے ہیں کہ میت والوں سے دعوت لینا ممنوع ہے۔اس مسئلہ کی بہت صورتیں ہیں: (۱)بعض وارث نابالغ ہوں(۲)بعض وارث غائب ہوں(۳)قوم دعوت دینے پر مجبور کرے کہ میت کی روٹی دے(۴)اہلِ میت رواج کے ماتحت شرم و حیاء سے روٹی دیں،پہلی دو صورتوں میں دعوت دینا دعوت کھانا دونوں حرام ہیں کہ اس میں یتیم کا مال کھانا ہے اور غائب کا مال اس کی اجازت کے بغیر کھانا ہے،آخری دو صورتوں میں کھانا مکروہ ہے اگر یہ چار صورتیں نہ ہوں مثلًا مہمانوں کے لیے کسی خاص وارث نے یا سارے بالغ وارثوں نے کھانا پکادیا یا اتفاقًا کسی کو کھلا دیا تو بلا کراہت جائز ہے۔یہاں جو واقعہ بیان ہورہا ہے اس میں یہ چاروں صورتیں نہ تھیں لہذا فقہاء کا یہ مسئلہ اس حدیث کے خلاف نہیں۔

مسئلہ: میت کا کفن دفن اس کے سارے مال سے کیا جاوے مگر اس کی نیاز فاتحہ میں یہ خیال رکھا جاوے کہ اگر بعض وارث یتیم نابالغ یا غائب ہوں تو اولًا متروکہ مال تقسیم کیا جاوے پھر بالغین حاضرین اپنے حصہ میں سے نیاز فاتحہ کریں اور یہ کھانا صرف فقراء مسکین کو کھلایا جاوے۔غرضکہ میت والوں کے ہاں کھانے کی بہت صورتیں ہیں:بعض حرام ہیں،بعض مکروہ،بعض مباح ہیں یہاں مکمل تفصیل کی گنجائش نہیں۔

۴؎  قوم سے مراد صاحبِ خانہ کے مہمان ہیں جن کے لیے کھانا تیار کیا گیا تھا اور وہ صحابہ کرام جو حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے جو اتفاقًا وہاں پہنچ گئے تھے اور کھانے میں شریک ہوگئے تھے۔

۵؎  یعنی لقمہ منہ میں لے لیا چبایا منہ میں گھمایا مگر نگلا نہیں ہم نے یہ محسوس کرلیا تو یا تو کسی نے حضورصلی الله علیہ وسلم سے پوچھا یا حضور انور نے خود ہی وہ فرمایا جو آگے آرہا ہے۔

۶؎  یعنی یہ گوشت نہ تو حرام جانور کا ہے نہ مردار کا مگر ایسا ہے جس میں احتیاط نہیں برتی گئی۔اس فرمان عالی سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضور انور کو پس پردہ چیز کی خبر دی گئی وہاں وحی الٰہی نہیں آئی تھی بلکہ زبان شریف نے گوشت کی لذت کے ساتھ اس کی کیفیت بھی محسوس کرلی۔دوسرے یہ کہ الله تعالٰی نے حضورصلی الله علیہ وسلم کے حلق اور شکم کو ہمیشہ حرام بلکہ مکروہ بلکہ مشتبہ بلکہ غیر احتیاطی چیزوں سے محفوظ رکھا،بخاری شریف میں سے کہ بچپن شریف میں حضور نے کبھی بتوں کے نام پر ذبح کیے ہوئے جانور کا گوشت نہیں کھایا۔خیال رہے کہ کفار کی مشترک کمائیاں مؤمن کے لیے حلال ہیں لہذا حضور انور کا ابو طالب کے ہاں اور موسیٰ علیہ السلام کا فرعون کے ہاں پرورش پانا یوں ہی حضور انور کا کفار کے ہدیے قبول فرمانا بالکل درست تھا،اب بھی ایسے مشترکہ مال والے کی دعوت کھالیناجائز ہے۔

۷؎  نقیع نون سے مدینہ پاک کے قریب وادی عقیق کی طرف ایک بازار تھا جہاں اور چیزوں کے ساتھ جانور بھی فروخت ہوتے تھے۔جن لوگوں نے بقیع ب سے پڑھا غلط ہے بقیع تو مدینہ منورہ کا مشہور قبرستان ہے وہاں بازارکہاں یہ تفسیر کسی راوی کی ہے۔

۸؎  یعنی میرا پڑوسی اپنے لیے ایک بکری خرید کر لایا تھا میں نے کہلا کر بھیجا تھا کہ وہ بکری میرے ہاتھ فروخت کردے کہ مجھے اس کی فوری ضرورت ہے۔

۹؎  اس سے معلوم ہوا کہ بیوی اپنے خاوند کا مال اس کی بغیر اجازت نہ تو فروخت کرسکتی ہے نہ ہبہ،اگر کرے گی تو درست نہ ہوگا،ہاں وہ معمولی حقیر چیزیں جس کے ہبہ کرنے کی اجازت عادۃً خاوند کی طرف سے ہوتی ہے وہ ہبہ خیرات کرسکتی ہے جیسے روٹی کا ٹکڑا،پھٹا پرانا کپڑا۔واقعہ یہ تھا کہ مالک بکری والا اب تک گھر نہ آیا تھا کہ اس سے اجازت لی جاتی اور گوشت بگڑ جانے کا اندیشہ تھا دونوں کفار تھے جن پر شرعی احکام جاری نہ تھے،حکم دیا کہ یہ مشتبہ کھانا ان قیدیوں کو کھلا دو اور بکری کی بازاری قیمت مالک بکری کو ادا کردی جاوے کہ یہ مال غصب ہے،غصب کے یہ ہی احکام ہیں۔معلوم ہوا کہ کھانا نہ تو ضائع کیا جاوے اور نہ بگڑنے دیا جاوے۔
Flag Counter