| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کھانا مانگنے آیا حضور نے اسے جو کا آدھا وسق عطا فرمایا ۱؎ وہ شخص اس کی بیوی اس کے مہمان اس سے کھاتے رہے حتی کہ اس نے ناپ لیا تو ختم ہوگیا ۲؎ پھر وہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس آیا فرمایا اگر وہ اسے نہ ناپتی تو تم سب اس سے کھاتے رہتے تو وہ تمہارے پاس رہتا ۳؎ (مسلم)
شرح
۱؎ پہلے کہا جاچکا ہے کہ وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور صاع ساڑھے چار سیر کا تو آدھا وسق تیس صاع ہوا یعنی ایک سو پینتیس سیرتین من پندرہ سیر۔ ۲؎ معلوم ہوتا ہے کہ برسہا برس تک کھاتے رہے یہ ہوا حضور انور کا معجزہ کہ تھوڑے غلہ میں بہت ہی برکت ہوئی۔ ۳؎ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ ایسی برکت والی چیز کا ناپ تول توکل کے خلاف ہے اس لیے اس کی برکت ختم ہو جاتی ہے۔