| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو مجھ پر وہ بات تھوپے جو میں نے نہ کہی ہو وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنالے۱؎ یہ اس طرح ہوا کہ آپ نے ایک شخص کو بھیجا اس نے آپ پر جھوٹ باندھ دیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس پر بددعا کردی تو وہ مردہ پایا گیا کہ اس کا پیٹ چر گیا تھا اسے زمین نے قبول نہ کیا ۲؎ یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیں۔
شرح
۱؎ حضور صلی الله علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی کئی صورتیں ہیں: ایک یہ کہ جان بوجھ کر حدیث گھڑے اور اسے حضور کی طرف نسبت کردے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہ فرمایا،دوسرے یہ کہ کوئی موضوع حدیث بیان کرے اور اس کا موضوع ہونا نہ بتائے۔خیال رہے کہ روایت بالمعنی جائز ہے،یہ وضع حدیث نہیں بلکہ حدیث کا مضمون اپنے الفاظ میں بیان کرنا ہے،ہم کہتے ہیں کہ رب نے فرمایا نماز قائم کرو حالانکہ قرآن مجید اردو نہیں ہے ہمارا یہ قول قرآن کا ترجمہ ہے،اس کی مثال وہ وائل ابن حجر کی روایت ہے آمین کے متعلق رفع بہا صوتہ ترجمہ ہے مدبھا صوتہ کا،راوی نے مد کا ترجمہ رفع کیا اور اسے حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا یہ حدیث گھڑنا نہیں یہ فرق خیال رہے۔اپنا گھر آگ میں بنانے کے معنی یہ ہیں کہ اپنے کو دوزخی سمجھ لے۔جھوٹ بولنا گناہ ہے اور جھوٹ کو حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف نسبت کرنا بدترین گناہ ہے۔ ۲؎ اس شخص نے لوگوں کو جھوٹی حدیث گھڑ کر سنائی حضور انور نے نور نبوت سے جان لیا اس کے لیے بددعا فرمادی،ایسا ہی ہوا کہ اسے بعد موت دفن کیا گیا تو زمین نے نکال کر پھینک دیا۔یہ واقعہ کوئی اور ہے اور وہ کاتبِ وحی جو مرتد ہوگیا تھا کفار کے پاس پہنچا بولا کہ میں اور نبی صلی الله علیہ وسلم مل کر قرآنی آیات گھڑ ا کرتے ہیں اس کا انجام بھی یہ ہوا تھا وہ واقعہ دوسرا ہے۔