Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
185 - 952
حدیث نمبر185
روایت ہے حضرت انیسہ بنت زید ابن ارقم سے ۱؎  وہ اپنے والد سے راوی کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جناب زید کے پاس ایک مرض میں مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے،فرمایا اس بیماری سے تم پر کوئی خطرہ نہیں ۲؎ مگر تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم کو میرے بعد دراز عمر ملے گی۳؎ تو تم نابینا ہوجاؤ گے۴؎ عرض کیا کہ میں صبر اور طلب اجر کروں گا۵؎ فرمایا تو جنت میں بے حساب جاؤ گے ۶؎ فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد وہ نابینا ہوگئے پھر الله نے ان کی نظر لوٹا دی پھر وہ فوت ہوئے ۷؎
شرح
۱؎ انیسہ الف کے پیش ن کے فتحہ سے،آپ حضرت زید ابن ارقم کی صاحبزادی ہیں،خود تابعین سے ہیں اور زید ابن ارقم صحابی ہیں اس لیے آپ کی کنیت ابو انیسہ بھی ہے اور ابو عمر بھی،انصاری خزرجی ہیں،آخر میں کوفہ میں رہے،وہاں      ۷۸؁  اٹھتر میں وفات پائی،اٹھاون سال عمر ہوئی رضی الله عنہ۔

۲؎  یعنی تم اس مرض سے وفات نہیں پاؤ گے ابھی تمہاری عمر باقی ہے،یہ ہے حضور صلی الله علیہ وسلم کا علم غیب کہ لوگوں کی زندگی اور موت سے خبردار ہیں۔

۳؎  یعنی تم میرے بعد بہت دراز عمر پاؤ گے۔

۴؎  یعنی تم آخر میں نابینا ہوجاؤ گے۔

۵؎  صبر سے مراد علاج نہ کرنا نہیں بلکہ رب کی شکایت نہ کرنا گھبراہٹ ظاہر نہ کرنا ہے دوا اور دعا صبر کے خلاف نہیں بے صبری چیز ہی اور ہے۔طلب اجر کا مطلب یہ ہے کہ میں سمجھوں گا کہ رب تعالٰی مجھے اس تکلیف اور صبر پر جنت عطا فرمائے گا۔

۶؎  یعنی اگر تم نے بے صبری پر صبر اور طلب اجر کر لیا تو تم ان لوگوں میں سے ہوؤ گے جو قیامت کے حساب و کتاب سے مستثنٰی ہیں بے حساب جنتی ہیں۔

۷؎  خیال رہے کہ حضور انور کو اس شفا کی بھی خبر تھی مگر آپ نے انہیں بتایا نہیں تاکہ ان کا امتحان اور صبر اعلیٰ درجہ کے ہوں۔(مرقات)ظاہر یہ ہے کہ دوبارہ انہیں روشنی ملنا دوا اور دعا سے ہوا جو خلاف صبر نہیں۔
Flag Counter