Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
184 - 952
حدیث نمبر183
روایت ہے حضرت معن ابن عبدالرحمن سے فرمایا کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ فرمایا میں نے مسروق سے پوچھا کہ جس رات جنات نے قرآن سنا ہے تو جنات کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کس نے دی ۱؎ انہوں نے کہا کہ مجھے تمہارے والد یعنی عبداللہ ابن مسعود نے بتایا کہ ان کی خبر ایک درخت نے دی ۲؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی جنات ایک ناری مخلوق ہے جو نظر نہیں آتی۔یہ لوگ حضور انور کا قرآن مجید سننے آئے حضور نے ان کی آمد کی خبر صحابہ کو دی تو یہ تابعی پوچھ رہے ہیں کہ حضور انور کو خبر ان جنات کی آمد کی کس نے دی۔

۲؎ یعنی ان جنات کی آمد کی خبر ایک قریب والے درخت نے دی کہ یارسول اللہ جنات حاضر ہیں حضور پر ایمان لانا چاہتے ہیں تب حضور تشریف لے گئے انہیں قرآن مجید سنایا اور مسلمان کیا،جنات کا یہ واقعہ دوسرا ہے اور قرآن مجید میں جو واقعہ مذکور ہے وہ واقعہ دوسرا" قُلْ اُوۡحِیَ اِلَیَّ اَنَّہُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ"۔
حدیث نمبر184
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم مکہ مدینہ کے درمیان جناب عمر کے ساتھ تھے تو ہم چاند ایک دوسرے کو دکھانے لگے میں تیز نظر تھا تو میں نے دیکھ لیا میرے سوا کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس نے چاند دیکھا ہے۱؎ میں جناب عمر سے کہنے لگا کہ کیا آپ دیکھتے نہیں آپ اسے نہ دیکھ سکے کہتے ہیں کہ میں اسے عنقریب اپنے بستر پر لیٹے ہوئے دیکھوں گا۲؎ پھر ہم کو بدر والوں کے متعلق خبریں دینے لگے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہم کو ایک دن پہلے کفار کے قتل گاہ دکھاتے تھے فرماتے تھے کہ ان شاء الله کل یہ جگہ فلاں کی قتل گاہ ہوگی اور ان شاء الله کل یہ جگہ فلاں کی قتل گاہ ہوگی۳؎ جناب عمر فرماتے ہیں کہ اس کی قسم جس نے انہیں حق کے ساتھ بھیجا کہ وہ لوگ ان حدود سے جو نبی صلی الله علیہ وسلم نے مقرر فرمائی تھیں بالکل نہ ہٹے۴؎ پھر وہ اوپر تلے ایک کنویں ڈال دیئے گئے ۵؎ پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لے گئے حتی کہ ان تک پہنچ گئے ۶؎ فرمایا اے فلاں ابن فلاں اے فلاں ابن فلاں کیا تم نے وہ سب باتیں درست پائیں جن کا تم سے الله و رسول نے وعدہ کیا تھا۷؎ کیونکہ میں نے وہ سب درست پایا جو مجھ سے الله نے وعدہ کیا تھا جناب عمر نے عرض کیا یا رسول الله آپ ان جسموں سے کیسے کلام کرتے ہیں جن میں جان نہیں تو فرمایا بات تم ان سے زیادہ نہیں سنتے بجز اس کے کہ وہ مجھے کچھ جواب نہیں دے سکتے ۸؎ (مسلم)
شرح
۱؎ یعنی اس سفر میں حضرت فاروق اعظم کے ساتھ بہت لوگ تھے مگر آج چاند کسی کو نظر نہیں آیا سواء میرے کیونکہ چاند بہت باریک تھا۔

۲؎  یعنی ابھی میں دیکھنے کی کوشش کیوں کروں عنقریب چاند اتنا بڑا ہوجاوے گا کہ مجھے بستر پر لیٹے ہوئے بے تکلف نظر آوے گا،عام شارحین نے یہ ہی معنی کیے۔یا میں اس ماہ کے آخر میں زخمی کیا جاؤں گا جس سے میری شہادت واقع ہوگی میں زخم خوردہ ہوکر بستر علالت پر اسے دیکھوں گا۔چنانچہ اس ماہ ذی الحجہ کے آخر میں آپ کو زخمی کیا گیا جس سے آپ کی شہادت واقع ہوگئی۔اس صورت میں یہ غیبی خبر ہے۔و الله ورسولہ اعلم! یہ واقعہ اس سفر کا ہے جب آپ آخری حج کو گئے واپس آکر شہید کر دیئے گئے۔

۳؎  اس فرمان عالی میں تین غیبی خبریں ہیں: وقت موت کی خبر کہ فلاں شخص کل مرے گا،جگہ موت کی خبر کہ فلاں جگہ مرے گا،تیسرے نوعیت موت کی خبر کہ کفر پر مرے گا نہیں بلکہ ہمارے ہاتھوں مارا جائے گا۔غرضکہ علوم خمسہ میں سے تین چیزوں کی خبر حضور نے دے دی بلکہ خط کھینچ کر بتادیا کہ فلاں کافر اس حد کے اندر مارا جائے گا۔

۴؎ یعنی اس دائرہ اس حد کے اندر ہر شخص قتل ہوا جہاں حضور انور نے دائرہ کھینچ کر جگہ مقرر فرمائی تھی۔شعر

خدا مطلع ساخت بر جملہ غیب			 علی کل شئی خبیر آمدی

۵؎ کفار کی لاشوں سے یہ ہی برتاوا ہوتا ہے۔نماز،دفن کفن مؤمن کی میت کے لیے ہے۔فقیر نے وہ جگہ دیکھنے کی بہت کوشش کی جہاں یہ لاشیں پڑی تھیں مگر اہل بدر نے کہا کہ کفار کی جگہ کا کیا دیکھنا تم حضور کے آثار دیکھو۔

۶؎ معلوم ہوا کہ کفار کی قبروں ان کی لاشوں پر کسی مصلحت سے جانا بالکل جائز ہے،زیارت قبر کے لیے جانا جائز نہیں،رب فرماتاہے:"وَلَاتَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ  اِنَّہُمْ کَفَرُوۡا بِاللہِ وَرَسُوۡلِہٖ"۔یہ حدیث اس آیت کریمہ کے خلاف نہیں کہ یہاں حضور کا کفار کی لاشوں پر جانا اس مقصد کے لیے ہے جو آگے آرہا ہے۔

۷؎  حضور کے اس عمل شریف سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ہر میت مؤمن ہو یا کافر بعد مرنے کے زندوں کا کلام سنتی ہے حتی کہ دفن کرنے والوں کے قدموں کی آہٹ سنتی ہے جیساکہ باب الدفن میں گزرا۔ دوسرے یہ کہ بعد موت انسان کی ہر طاقت بڑھ جاتی ہے دیکھو ہزارہا من مٹی میں دفن ہونے کے باوجود مردہ آواز بلکہ جوتوں کی آہٹ سن لیتا ہے،اگر زندہ کو اتنی مٹی میں دبا دیا جاوے تو وہ توپ کی آواز بھی نہیں سن سکتا۔تیسرے یہ کہ بعد وفات یا کہہ کر پکارنا جائز ہے۔اس سے وہ لوگ عبر ت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ یارسول الله کہنا شرک ہے حالانکہ نماز میں کہا جاتا ہے السلام علیك ایھا النبی۔

۸؎  یعنی مردے کفار یا تو تمہاری برابر سنتے ہیں یا تم سے زیادہ تم سے کم نہیں سنتے،ہاں فرق یہ ہے کہ تم ہم کو جواب سنا سکتے ہو یہ جواب دیتے تو ہیں مگر زندوں کو سنا نہیں سکتے کیونکہ اب وہ ایسی آواز سے بولتے ہیں جنہیں یہ کان نہیں سن سکتے،الله والے مردوں کی آواز سن لیتے ہیں لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں زندہ بزرگوں کا مردوں کی آوازیں سننا ثابت ہے۔خیال رہے کہ جن آیات میں مردوں کے سننے کی نفی ہے وہاں مردوں سے مراد دل کے مردے یعنی کفار ہیں جیسے"اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی"وغیرہ کیونکہ اس آیت کے آخر میں ہے"اِنۡ تُسْمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا"یعنی وہاں مردے کا مقابلہ مؤمن سے کیا گیا ہے لہذا یہ حدیث ان آیات کے خلاف نہیں۔سماع موتی کے ثبوت میں بہت سی آیات ہیں دیکھو ہماری کتاب فہرست القرآن۔
Flag Counter