Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
183 - 952
حدیث نمبر183
روایت ہے حضرت عمرو ابن اخطب انصاری سے فرماتے ہیں ۱؎ کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز فجر پڑھائی اور منبر پر چڑھے ہم کو خطبہ دیا حتی کہ ظہر کا وقت آگیا پھر اترے پھر نماز پڑھی پھر منبر پر چڑھے تو ہم کو خطبہ دیا حتی کہ عصر کا وقت آگیا پھر اترے پھر نماز پڑھی پھر منبر پر چڑھے حتی کہ سورج ڈوب گیا ۲؎ تو ہم کو تمام ان چیزوں کی خبر دی جو قیامت کے دن تک ہونے والا ہے۳؎ فرمایا کہ ہم میں زیادہ جاننے والا وہ تھا جو ہم میں زیادہ حافظ تھا۴؎ (مسلم)
شرح
۱؎ آپ ابو زید اعرج کے نام سے مشہور ہیں،آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیرہ غزوات کیے ہیں،حضور نے ان کے سر پر ہاتھ شریف پھیرا اور ان کے لیے دعائے خیر کی،آپ کی عمر شریف سو سال ہوئی مگر سر شریف میں صرف چند بال سفید ہوئے تھے۔(اشعہ،مرقات)

۲؎ یعنی حضور نے تھوڑے وقفہ کے بعد سارا دن وعظ و خطبہ ارشاد فرمایا،یہ خطبہ احکام کا نہ تھا بلکہ غیبی خبریں دینے کا تھا۔

۳؎  یعنی تاقیامت قطرہ قطرہ ذرہ بتادیا جو پرندہ تاقیامت پر ہلائے گا وہ سب کچھ تفصیل وار بتادیا۔یہ ہے حضور کا علم غیب کلی۔حضور کا یہ معجزہ ہے کہ سارے واقعات صرف ایک دن میں بتادیئے جیسے حضرت داؤد علیہ السلام گھوڑا کستے کستے پوری زبور شریف پڑھ لیتے تھے۔اس معجزہ کا نام ہے طی الوقت یہ بھی طی الارض کی طرح ایک معجزہ ہے،کبھی کرامت کے طور پر ولی کے ہاتھ پر بھی ظاہر ہوتا ہے۔

۴؎  معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کو یہ سارے واقعات یاد نہ رہے کسی کو زیادہ یاد رہے کسی کو کم لہذا ان میں سے کسی کا علم حضور انور کے علم کے برابر نہیں ہوگیا۔خیال رہے کہ تعلیم یعنی سکھانا اور چیز ہے اور خبر دینا یعنی اعلام یا انباء کچھ اور چیز اللہ تعالٰی نے حضور کو ہر چیز سکھادی"وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ"اور حضور نے یہ تمام باتیں لوگوں کو سنادیں بتادیں سکھائیں نہیں"وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسْمَآءَ کُلَّہَا"،"فَلَمَّاۤ اَنۡۢبَاَہُمْ" میں یہ ہی فرق ہے۔
Flag Counter