| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بکری ہدیہ کی گئی جس میں زہر تھا۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جتنے یہودی یہاں ہیں انہیں ہمارے پاس جمع کرو وہ سب حضور کے آگے جمع ہوئے تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم سے ایک چیز کے متعلق پوچھتا ہوں کیا تم مجھ سے سچ بولو گے انہوں نے کہا ہاں اے ابو القاسم تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا باپ کون ہے ۲؎ وہ بولے فلاں فرمایا تم نے جھوٹ بولا بلکہ تمہارا باپ فلاں ہے وہ بولے آپ نے سچ کہا اور درست کہا ۳؎ فرمایا تو کیا اب تم مجھ سے سچ کہو گے جس چیز کے متلعق اگر میں تم سے پوچھو وہ بولے ہاں اے ابوالقاسم ۴؎ اور اگر ہم آپ سے جھوٹ بولیں تو آپ پہچان لیں گے جیسے ہمارے باپ کے متعلق پہچان لیا ۵؎ تو ان سے فرمایا کہ آگ والے کون ہیں وہ بولے کچھ دن ہم اس میں رہیں گے ۶؎ پھر اس میں ہمارے نائب آپ لوگ ہوں گے ۷؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ورے ہو اس میں رہو اللہ کی قسم ہم اس میں تمہارے نائب کبھی نہیں بنیں گے ۷؎ پھر فرمایا کہ کیا اب مجھ سے سچ بولو گے اس چیز کے متعلق جو میں تم سے پوچھوں وہ بولے ہاں اے ابوالقاسم فرمایا کیا تم نے اس بکری میں زہر ڈالا ہے وہ بولے ہاں ۸؎ فرمایا تم کو اس پر کس چیز نے جرأت دی وہ بولے ہم نے چاہا کہ اگر آپ جھوٹے ہیں تو ہم آپ سے راحت پاجائیں اور اگر سچے ہیں تو آپ کو نقصان نہ دے گا ۹؎ (بخاری)
شرح
۱؎ یہ بکری خیبر کے یہود نے ہدیہ کے طور پر بھیجی تھی بھیجنے والی یہودیہ کا نام زینب تھا یہ واقعہ ابھی دوسری فصل میں گزر چکا۔ ۲؎ یعنی تمہارے قبیلہ کا مورث اعلیٰ جد کون ہے تم سب کس کی اولاد میں ہو۔ ۳؎ یہ ہے حضور انور کا علم غیب کہ حضور لوگوں کی نسلوں تک سے واقف ہیں پھر آپ پر گوشت کا زہر کیسے مخفی رہ سکتا ہے اس زہر کھالینے میں وہ حکمتیں تھیں جو ابھی دوسری فصل میں عرض کی گئیں،حضور مرضی الٰہی سے واقف اسرار الہیہ سے خبردار ہیں جو کچھ ہو اللہ رسول کے درمیان طے شدہ پروگرام کے ما تحت ہوا۔ ۴؎ یہود نامسعود اکثر حضور انور کا نام نہیں لیتے تھے کنیت شریف سے پکارتے تھے کیونکہ حضور کا نام شریف توریت میں مذکور تھا یہ آپ کی نبوت کی دلیل تھی اس سے انہیں موت آتی تھی۔ ۵؎ معلوم ہوا کہ وہ یہود بھی حضور کے علمِ غیب کے قائل ہوچکے تھے تب ہی تو بولے کہ ہمارا جھوٹ آپ پرچھپ نہ سکے گا جو حضور کے علم کا انکار کرے وہ ان یہود سے بدتر ہے۔حضور کو سب کی نسل واصل کی خبر ہے کسی کا بیٹا ہونا ایسی غیبی خبر ہے جسے بجز پروردگار کوئی نہیں جانتا۔حضور کو رب نے یہ بھی بتا دیا ہے۔ ۶؎ ان یہود کا عقیدہ یہ تھا کہ جتنے روز ہمارے باپ دادوں نے بچھڑا پرستی کی ہے اتنے روز ہم دوزخ میں رہیں گے پھر نکال کر جنت میں پہنچادیئے جائیں گے،رب فرماتا ہے:"لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوۡدَۃً" مسلمان وہاں ہمیشہ رہیں گے یہ وہ ہی بکواس ہے۔ ۷؎ یعنی تم اس خبر میں بھی جھوٹے ہو پہلی خبر واقعہ اور تمہارے علم دونوں کے خلاف تھی یہ خبر واقعہ کے خلاف ہے تمہارے عقیدے کے اگرچہ موافق ہو۔ ۸؎ اگرچہ زہر ملانے والی صرف ایک یہودن عورت تھی مگر چونکہ یہ کام ان سب کے مشورہ سے ہوا تھا لہذا سب کا فعل تھا اس لیے ان سے حضور انور نے یہ سوال فرمایا اور انہوں نے یہ مذکورہ جواب دیا اگر وہ لوگ حضور کا علمِ غیب ابھی ابھی آزماچکے نہ ہوتے تو ہر گز اپنا جرم قبول نہ کرتے وہ سمجھ گئے کہ۔ ع ! کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے علیم و خبیر حاکم کے سامنے اقرار ہی کرنا پڑتا ہے۔ ۹؎ اس کی شرح ابھی دوسری فصل میں گزر گئی کہ ان یہود نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ دیکھنا چاہا کہ اگر حضور کو زہر مضر نہ ہو تو آپ سچے نبی ہیں انہیں یہ معجزہ دکھادیا گیا۔چنانچہ زینب جو زہر ملانے والی تھی غالبًا وہ اور دوسرے چند یہودی ایمان لے آئے جیساکہ پہلے کہا گیا۔