روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ ایک رات مکہ میں قریش نے مشورہ کیا ۱؎ بعض نے کہا کہ جب سویر ا ہو تو انہیں رسیوں سے باندھ دو یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض دوسرے بولے کہ بلکہ انہیں قتل کردو بعض بولے بلکہ انہیں نکال دو ۲؎ اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر مطلع کردیا تو جناب علی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر یہ رات گزاری اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے حتی کہ غار پر پہنچ گئے ۳؎ اور مشرکین رات بھر جناب علی کی نگرانی کرتے رہے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر ۴؎ جب صبح پائی تو ان پر دوڑے ۵؎ پھر جب جناب علی کو دیکھا تو اللہ نے ان کے فریب رد کردیئے ۶؎ بولے تمہارے وہ ساتھی کہاں ہیں ۷؎ آپ نے فرمایا میں نہیں جانتا۸؎ چنانچہ وہ سب حضور کے نشان قدم پر کھوج لگاتے چلے۹؎ جب پہاڑ پر پہنچے تو ان پر غار مشتبہ ہوگیا ۱۰؎ وہ پہاڑ پر چڑھ گئے اس غار پر پہنچے اس کے دروازہ پر مکڑی کا جالا دیکھا تو بولے کہ اگر حضور یہاں گھسے ہوتے تو اس کے دروازے پر جالانہ ہوتا ۱۱؎ حضور نے اس میں تین شب قیام فرما یا ۱۲؎ (احمد)
شرح
۱؎ یہ واقعہ ہجرت کی رات کا ہے کہ دارالندوہ میں کفار قریش جمع ہوئے کہ اب اسلام کو ختم کرنے کی آخری تدبیر کیا کرنی چاہیے اس مجمع میں شیطان شیخ نجدی کی شکل میں حاضر تھا ہر ایک کی رائے پر اعتراض کرتا تھا۔ (مرقات) ۲؎ ان تین رایوں میں شیطان نے دو رائیں رد کردیں اور قتل کی رائے پسند کی وہ بولا کہ اگر تم انہیں باندھ دو گے تو ان کے قبیلہ کےلوگ انہیں کھول دیں گے اگر تم انہیں مکہ معظمہ سے نکال دو گے تو وہ اس جگہ پہنچ کر اسلام پھیلائیں گے جہاں جائیں گے۔بہتر یہ ہی ہے کہ انہیں سب مل کر اچانک قتل کردو۔بنی ہاشم تم سب سے بدلہ نہ لے سکیں گے۔آخر خون بہا لینے پر راضی ہوجائیں گے تم سب چندہ کرکے انہیں خون بہا دے دینا اس پر اتفاق ہوگیا اور کفار نے حضور انور کا گھر گھیر لیا اس برے ارادے سے۔(مرقات وغیرہ)قتل کی رائے ابوجہل کی تھی تائید ابلیس کی۔ ۳؎ حضور کی خوابگاہ گھیرے اس ارادے سے کھڑے تھے کہ حضور تہجد کے لیے اٹھیں ہم ان پر حملہ کردیں حضور نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ ان خونخواروں سفاکوں کی امانتیں میرے پاس ہیں یہ امانتیں ادا کرکے ہمارے پاس مدینہ منورہ پہنچ جانا۔تم مطمئن رہو تمہارا بال بیکا نہیں کرسکیں گے یہ فرما کر حضور انور ان کفار میں سے انکی جماعت کو چیر کر نکلے یہ پڑھ رہے تھے"فَاَغْشَیۡنٰہُمْ فَہُمْ لَا یُبْصِرُوۡنَ"وہ سب اندھے ہوگئے اور حضور وہاں سے نکل کر حضرت ابوبکر صدیق کے مکان پر تشریف لے گئے جناب صدیق کو ساتھ لیا غار ثور شریف لے گئے کس طرح گئے یہ حضرت صدیق سے پوچھو کہ وہ حضور کو وہاں کیسے لے گئے راستہ میں کبھی حضور کے آگے چلتے کبھی پیچھے کبھی داہنے کبھی بائیں جدھر خطرہ محسوس کرتے ادھر ہوجاتے آخر حضور کو اپنے کندھے پر لے لیا اور پہاڑ کی چڑھائی شروع کردی چڑھائی قریبًا دو ڈھائی میل ہے راستہ خطرناک ہے رستہ میں نوکیلے پتھر ہیں اب لوگ دن میں وہاں جاتے ہیں تو بمشکل وہ راہ طے کرتے ہیں۔عشاق اس راستہ کو چومتے ہیں کہ یہاں جناب صدیق کے تلوے لگے ہوں گے۔ ۴؎ یہ نگرانی اور محاصرہ اس طے شدہ پروگرام کے ماتحت تھا وہ سمجھے کہ بستر پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سورہے ہیں آپ کے تہجد کے لیے جاگنے کا انتظار کرتے رہے۔ ۵؎ یعنی حضرت علی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر چوطرفہ سے ٹوٹ پڑے حملہ آور ہوگئے۔ ۶؎ یعنی وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ہم کیا سمجھے تھے اور ہوا کیا وہ کدھر سے نکلے اور نکل کر کہاں گئے عقل کام نہیں کرتی۔:"وَمَکَرُوۡا وَمَکَرَ اللہُ وَاللہُ خَیۡرُ الْمٰکِرِیۡنَ" ۷؎ یہ ہے حضور انور کی حفاظت کہ حضور نے فرمایا تھا علی وہ تمہارا بال بیکا نہ کرسکیں گے ایسا ہی ہوا ورنہ ایسی افراتفری میں حضرت علی کا شہید ہوجانا بہت ممکن تھا یا وہ طیش میں آکر ہی آپ کو شہید کردیتے مگر کچھ نہ ہوا یسے ہوتا کہ حضرت علی کے سر پر حضور انور کا ہاتھ تھا اور اللہ کی رحمت و حفاظت،تاقیامت جس کی حضور حفاظت فرمالیں اسے دین و دنیا میں امان مل جاتی ہے۔شیطان،شیطانی انسان بلکہ ساری مخلوق سے اسےامن مل جاتی ہے۔اعلیٰ حضرت نے خوب فرمایا۔شعر خوف نہ کر ذرہ رضا تو تو ہے عبد مصطفی تیرے لیے امان ہے تیرے لیے امان ہے ۸؎ سبحان الله! کیسا پیارا سچا جواب ہے یعنی میں نہیں جانتا کہ اس وقت وہ کہاں ہیں حضرت علی کو کیا خبر تھی کہ حضور ابھی تک مکہ معظمہ میں ہیں یا کہیں باہر تشریف لے گئے جواب نہایت ہی سچا ہے۔ ۹؎ خیال رہے کہ کچھ دور تو حضور انور کے ساتھ حضرت صدیق چلے کبھی آپ کے داہنے کبھی بائیں آگے کبھی پیچھے پھر حضور کو اپنے کندھے پر لے لیا اور نرم زمین پر اپنے پنجوں سے اس طرح چلے کہ جب پنجے اٹھاتے تو گھما کر پنجوں کا نشان مٹاتے جاتے کہ کوئی کھوجیا کھوج نہ لگا سکے کفار کھوج وہاں تک ہی لگاسکے جہاں تک حضرت صدیق ساتھ تھے آگے اپنے اندازے سے گئے پہاڑ پر بھی اندازے سے چڑھے ورنہ پتھریلی زمین میں اور پہاڑ پر نقش قدم نہیں پڑا کرتے۔ ۱۰؎ اب بھی وہاں زائرین کے لیے غار ثور مشتبہ ہوجاتا ہے تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر چند غار واقع ہیں وہاں کسی رہبر کے بغیر پہنچنا مشکل ہوتا ہے ہم بھی وہاں اللہ کے کرم اور رہبر کے ذریعہ حاضر ہوئے نوافل پڑھے۔ ۱۱؎ اس غار کے دروازے پر پہنچ کر بعض کافر بولے کہ اس کے اندر جاکے دیکھ لو تو دوسرے بولے کہ اگر اس میں کوئی گھسا ہوتا توجالا اور کبوتری کے انڈے ٹوٹ جاتے ایک بولا کہ یہ جالا تیری پیدائش سے پہلے کا ہے۔حالانکہ حضور کے اندر پہنچ جانے کے بعد وہ جالا مکڑی نے تنا تھا کبوتری نے انڈے دیئے تھے اگر رب چاہے تو اپنے محبوب کو مکڑی کے جالے کے ذریعہ بچائے غضب کرے تو فرعون کو اس کے قلعہ کی دیواریں نہ بچا سکیں۔بزرگان دین فرماتے ہیں کہ حرم کے کبوتر اسی کبوتری کی نسل ہیں جس نے وہاں انڈے دیئے تھے ان کا اب تک احترام ہے واللہ ورسولہ اعلم امام ابوصیری فرماتے ہیں۔شعر ظنوا الحمام وظنوا العنکبوت علی خیر البریۃ لم تنسج ولم تجم ۱۲؎ اس غار کے دو دروازے ہیں کفار اس دروازے پر پہنچے جس سے حضور داخل ہوئے تھے اس دروازے کی لمبائی ایک ہاتھ ہے چوڑائی صرف ایک بالشت یہ فقیر اس غار شریف سے نکلتے وقت دروازے میں پھنس گیا تھا رگڑ سے کچھ سر کے بال اڑ گئے وہاں پہلے بہت سوراخ تھے مگر اب کوئی سوارخ نہیں ہے۔اندر چھ سات آدمیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اس غار میں حضرت صدیق نے عرض کیا تھا کہ یارسول اللہ اگر کفار اپنے قدموں کو دیکھ لیں تو ہم کو دیکھ لیں فرمایا"لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا"جو قرآن کریم نے نقل فرمایا جناب صدیق کو تو اس غار میں مار(سانپ)نے کاٹا حیرت ہے کہ کفار نے جو کچھ کہا حضور انور اور حضرت صدیق نے اندر سب کچھ سن لیا مگر ان حضرات نے جو اندر باتیں کیں وہ کفار نہ سن سکے۔حالانکہ فاصلہ ایک ہی تھا یہ ہے حضور کا معجزہ۔