Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
180 - 952
حدیث نمبر180
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ چھوارے لایا تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ ان میں برکت کی دعا فرمادیں ۱؎ تو انہیں حضور نے ملادیا پھر ان میں میرے لیے برکت کی دعا کی ۲؎ فرمایا انہیں لے لو اسے اپنے توشہ دان میں ڈال لو جب اس میں سے کچھ لینا چاہو تو اس میں اپنا ہاتھ ڈال دو اس میں سے لے لو اور کبھی جھاڑنا مت ۳؎ میں نے ان چھوہاروں میں سے اتنے وسق اللہ کی راہ میں خیرات کیے ہم ان میں سے کھاتے کھلاتے رہے۴؎ وہ یہ میری کمر سے کبھی جدا نہ ہوئے تھے حتی کہ جناب عثمان کے قتل کا دن ہوا تو وہ مجھ سے گر گیا ۵؎ (ترمذی)
شرح
۱؎ برکت کے معنی ہیں خیر کا بیٹھ جانا وہاں سے نہ نکلنا یہ بنا ہے برک سے بمعنی اونٹ کا بیٹھنا کثرت اور برکت میں بڑا فرق ہے برکت یہ ہے کہ چیز تھوڑی ہو مگر نہ خود ختم ہو نہ اس کا نفع ختم ہو کثرت یعنی زیادتی تو کفار کو مل جاتی ہے مگر برکت کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔

۲؎  خیال رہے کہ دعائیہ کلمات میں برکت کسی پاکیزہ زبان سے پیدا ہوتی ہے اس لیے انہوں نے دعائیہ کلمات خود پڑھ کر دم نہ کردیئے۔بلکہ حضور انور سے دم کرائے کارتوس بغیر رائفل کے مار نہیں کرتا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا"وَ جَعَلَنِیۡ مُبَارَکًا اَیۡنَ مَا کُنۡتُ"رب نے مجھے برکت والا بنایا ہے میں جہاں بھی ہوں برکت میرے ساتھ ہے۔معلوم ہوا کہ کسی چیز پر دم کرتے وقت اسے ملا لینا سنت ہے۔

۳؎  متبرک چیزوں میں توکل ضروری ہے اس لیے انہیں ناپنا،تولنا،جھاڑنا نہیں چاہیے بلکہ اس میں سے لیتے رہو،استعمال کرتے رہو اس کا اندازہ بھی نہ لگاؤ کہ اب اتنی رہ گئی ہوگی۔یہ صوفیانہ عمل ہے۔

۴؎ یعنی میں نے کھائے دوستوں کو کھلائے اور کئی من خیرا ت کیے مگر پھر اتنے ہی رہے جتنے تھے۔وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور صاع ساڑھے چار سیر کا تو ایک وسق چھ من تیس سیر ہوا۔آپ نے کئی وسق خیرات کیے حالانکہ پاؤ بھر یا آدھ سیر چھوہارے تھے سوچو کتنی برکت ہوئی کیونکہ یہ چوہارے جناب ابوہریرہ کی کمر سے بندھے رہتے تھے کمر سے اتنا ہی وزن بندھ سکتا ہے۔

۵؎ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان کی شہادت مدینہ منورہ میں عجیب افراتفری کا واقعہ تھا کہ لوگ اپنی محبوب چیزوں سے بھی غافل ہوگئے تھے اس تھیلے کے گر جانے پر یہ برکت ختم ہوگئی حضرت ابوہریرہ اس کے بعد یہ شعر پڑھا کرتے تھے  ؎

للناس ھم ولی ھمان بینھم			ھم الجراب وھم الشیخ عثمان 	(مرقات)

یعنی لوگوں کو تو ایک غم ہے اور مجھے دو غم ہیں ایک اپنے تھیلے کے گم ہوجانے کا دوسرا حضرت عثمان غنی کی شہادت کا۔رضی اللہ عنہ
Flag Counter