| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت یعلیٰ ابن مرہ ثقفی سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزیں دیکھیں جب کہ ہم حضور کے ساتھ چل رہے تھے کہ ہم ایک اونٹ پر گزرے جس پر پانی دیا جارہا تھا۲؎ تو جب حضور کو اونٹ نے دیکھا تو چیخا اپنی گردن رکھ دی۳؎ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے،فرمایا اس اونٹ کا مالک کہاں ہے وہ حضور کے پاس آیا فرمایا اسے میرے ہاتھ بیچ دے۴؎ اس نے کہا یارسول اللہ ہم یہ حضور کو ہبہ کرتے ہیں یہ ایسے گھر والوں کا ہے جن کے پاس اس کے سوا کوئی ذریعہ معاش نہیں ۵؎ فرمایا جب تم نے اس کا یہ حال بیان کیا تو اس نے زیادتی کام اور چارہ کی کمی کی شکایت کی تم اس سے اچھا سلوک کرو ۶؎ پھر ہم چلے حتی کہ ایک منزل میں اترے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوگئے ایک درخت زمین چیرتا ہوا آیا حتی کہ آپ پر سایہ کرلیا پھر اپنی جگہ لوٹ گیا۷؎ پھر جب بیدا ر ہوئے تو میں نے حضور سے یہ ذکر کیا فرمایا یہ وہ درخت ہے جس نے اپنے رب سے یہ اجازت چاہی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرے تو اسے اجازت دے دی ۸؎ راوی نے کہا کہ پھر ہم ایک گھاٹ پر گزرے تو آپ کے پاس ایک عورت اپنا بچہ لائی جسے دیوانگی تھی ۹؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بانسہ پکڑا پھر فرمایا کہ نکل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۱۰؎ پھر ہم چلے تو جب لوٹے تو اس گھاٹ پر گزرے اس سے بچہ کے متعلق پوچھا وہ بولی اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا آپ کے بعد ہم نے اس سے کوئی شبہ کی چیز نہ دیکھی ۱۱؎ (شرح سنہ)
شرح
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،قبیلہ بنی ثقیف سے ہیں،حدیبیہ،فتح خیبر،حنین،طائف وغیرہ کے جہادوں میں حاضر رہے آپ نے ایک سفر میں حضور کے تین معجزے دیکھے اس کا بیان فرمارہے ہیں یہ پتہ نہیں چلا کہ کس سفر میں تھے اور یہ واقعہ کب کا ہے۔ ۲؎ یُسنٰی بنا ہے سنی سے بمعنی کھیت کو پانی دینا اسی سے ہے سانیہ وہ اونٹنی جس سے کھیت کو پانی دیا جاوے یعنی اس وقت کھیت والے اس پر کھیت کو پانی دے رہے تھے۔ ۳؎ اونٹ کی لمبی گردن سینے سے سر تک کو حبران کہتے ہیں یعنی وہ حضور انور کے سامنے اس طرح بیٹھ گیا کہ اپنی ساری گردن زمین پر بچھادی اس نے اس طرح اپنی انتہائی عاجزی ظاہر کی۔ ۴؎ اسے ہم پال لیں گے یہ تیرے ہاں تنگ ہے حضور آفت زدوں کے غم خوار ہیں۔بیکسوں کے غمگسار جن کی کوئی قیمت نہ ہو ان مولے ہوں ان کے خریدار ہیں۔شعر بے یار ومددگار جسے کوئی نہ پوچھے ایسوں کا تمہیں یار و مددگار بنایا ۵؎ یعنی ان لوگوں کا سہارا ان کا گزارہ اس اونٹ سے ہے حضور چاہیں تو قبول فرمالیں ہم کو کوئی عذر نہیں۔ ۶؎ یعنی اچھا ہم نہیں خریدتے تم اپنے پاس رکھو مگر اس سے کام کم لو چارہ زیادہ دو۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور انور جانوروں کی بولی بھی سمجھتے ہیں حضرت سلیمان صرف چڑیوں چیونٹیوں کی بولی سمجھتے تھے،حضور شجر و حجر خشک و تر ساری مخلوق کی بولی جانتے ہیں۔دوسرے یہ کہ حضور حاجت روا مشکل کشاہ ہیں۔یہ وہ مسئلہ ہے جسے جانور بھی مانتے ہیں جو انسان مسلمان ہو کر حضور کو حاجت رواں مشکل کشا نہ مانے وہ جانوروں سے بدتر ہے۔تیسرے یہ کہ حضور کی کچہری میں جانور بھی فریاد ہوتے ہیں۔شعر ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد ہاں یہی چاہتی ہیں ہرنی دوا اس در پر شتران ناشاد شکوہ رنج و عناد کرتے ہیں لہذا اپنا ہر دکھ درد حضور سے کہو فریاد کرو۔ ۷؎ اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور کے معجزات سوتے میں بھی جاری رہتے تھے صرف بیداری پر ہی منحصر نہ تھے۔ ۸؎ یعنی درخت کی یہ حاضری صرف سایہ کرنے کے لیے نہ تھی بلکہ مجھے سلام کرنے کے لیے تھی اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور کو جانور درخت بھی سلام کرتے ہیں دوسرے یہ کہ حضور انور سوتے میں بھی سلام کرنے والوں کے سلام سنتے انہیں جواب دیتے ہیں آج بھی بعد وفات حضور کو دنیا سلام کرتی ہے۔تیسرے یہ کہ اللہ تعالٰی خود اپنی مخلوق کو حضور کی بارگاہ میں سلام کرنے بھیجتا ہے۔دیکھو درخت اللہ تعالٰی سے اجازت لے کر سلام کرنے آیا تھا رہی یہ بات کہ درخت کو رب تعالٰی نے کیسے اجازت دی اور درخت نے یہ اجازت کیوں کر معلوم کی اس میں بڑی دراز گفتگو ہے حق یہ ہے کہ درختوں پتھروں کے بھی قدرتی دل ہیں ان کے دل میں ڈال دینا اللہ کی اجازت ہے رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ اَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ" آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی یہ ہے اللہ کا ان سے کلام فرمانا۔ ۹؎ وہ عورت اپنے دیوانہ بچے کو حضور کے پاس لائی تاکہ اسے حضور کے دم اور حضور کی برکت سے شفاء نصیب ہو معلوم ہوا کہ یہ حاجت مندوں کا حضور کے دروازے پر جانا سنت صحابہ ہے۔ ۱۰؎ اس میں خطاب اس بچہ کی بیماری یعنی دیوانگی سے ہے اور انی رسول الله میں وجہ خطاب کا ذکر ہے یعنی تو اس میں سے نکل جا کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں اس شان رسالت سے تجھ کو نکل جانے کا حکم دے رہا ہوں۔معلوم ہوا کہ حضور کی حکومت بیماریوں پر بھی ہے،آپ کا حکم ان پر بھی جاری ہے دیکھو حضور انور نے نہ تو کوئی دوا بتائی نہ کوئی دعا پڑھ کر دم کیا بلکہ اسے نکل جانے کا حکم شاہانہ دیا اور بیماری نے اطاعت کی ہم نے عرض کیا ہے۔ تخت ہے ان کا تاج ہے ان کا دونوں جہاں میں راج ہے ان کا جن و ملک ہیں ان کے سپاہی رب کی خدائی میں ان کی شاہی ۱۱؎ یعنی وہ بیماری جڑ سے جاتی رہی پھر اس کا شائبہ بھی نہ ہوا سبحان الله! یہ ہے حضور کی بادشاہت۔
حدیث نمبر179
روایت ہے حضرت سہل ابن حنظلیہ سے۱؎ کہ لوگ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے تو انہوں نے بہت دراز سفر کیا حتی کہ شام ہوگئی ۲؎ تو ایک سوار آیا عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں فلاں فلاں پہاڑ پر چڑھا تو میں نے ہوازن کو دیکھا جو سارے کا سارا قبیلہ اپنی عورتوں جانوروں کے ساتھ حنین میں جمع ہوگیا ہے ۳؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا اور ارشاد کیا کہ انشاء اللہ یہ سب کچھ کل مسلمانوں کی غنیمت ہوگی ۴؎ پھر فرمایا کہ آج رات ہماری حفاظت کون کرے گا ۵؎ انس ابن مرثد غنویٰ بولے یارسول اللہ میں کروں گا ۶؎ فرمایا سوار ہوجاؤ۔چنانچہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو گئے فرمایااس گھاٹی کے سامنے جاؤ حتی کہ اس کی بلندی پر پہنچ جاؤ ۷؎ پھر جب ہم نے سویرا کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلے پر تشریف لائے دو رکعتیں پڑھیں ۸؎ پھر فرمایا کہ کیا تم نے اپنے سوار کو محسوس کیا ایک صاحب نے کہا یارسول اللہ ہم نے تو محسوس نہ کیا ۹؎ پھر نماز کی تکبیر کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے گھاٹی کی طرف کنکھیوں سے دیکھنے لگے ۱۰؎ حتی کہ جب نماز پوری فرمائی تو فرمایا خوش ہوجاؤ تمہارا سوار آپہنچا ۱۱؎ توہم گھاٹی میں درختوں کی طرف دیکھنے لگے تو ناگاہ وہ آرہا تھا حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکھڑا ہوا ۱۲؎ تو عرض کیا کہ میں چلا حتی کہ میں اس گھاٹ کی چوٹی پر پہنچ گیا جہاں کا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا پھر جب میں نے سویرا کیا تو میں ان دونوں گھاٹیوں(پہاڑیوں)پر چڑھ گیا ۱۳؎ تو میں نے کسی ایک کو نہ دیکھا ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس رات نیچے اترے عرض کیا نہیں سواء نماز کے یا ادا حاجت کے ۱۴؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بعد کوئی عمل نہ کرنا تم کو مضر نہیں ۱۵؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ حنظلیہ حضرت سہل کی ماں یا دادی کا نام ہے آپ کے والد کا نام ربیع ابن عمرو ہے حضرت سہل بیعۃ الرضوان میں شریک ہوئے بڑے عابد،لوگوں سے علیحدہ رہنے والے گوشہ نشین تھے لاولد رہے آخر میں دمشق میں رہتے تھے وہاں ہی خلافت ا میر معاویہ میں وفات پائی رضی اللہ عنہ۔(مرقات) ۲؎ یعنی تمام دن ہم چلتے رہے حتی کہ شام ہوگئی۔ ۳؎ بکرہ کہتے ہیں جوان اونٹنی کو،اہلِ عرب جب کسی قوم کی کثرت بیان کرتے ہیں یعنی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ قوم ساری کی ساری بہت تعداد میں آگئی تو کہتے ہیں علی بکرۃ ابیھم ظعن بوڑھی عورتیں،نعم ہر قسم کے جانور یعنی قبیلہ ہوازن اپنی ساری جماعت سارے مال کے ساتھ حنین میں آپ سے جنگ کرنے کے لیے جمع ہوچکے ہیں ہوازن جناب حلیمہ کی قوم تھی آپ قبیلہ بنی ہوازن سے تھیں رضی اللہ عنہا۔ ۴؎ یعنی ان شاءالله کل جہاد ہوگا اس میں یہ لوگ قیدی ہوں گے ان کے مال مسلمانوں کی غنیمت بنیں گے ایسا ہی ہوا۔یہ ہوا حضور کے علم غیب کا معجزہ۔ ۵؎ دشمن کے خطرہ کے وقت سارا لشکر رات کو نہیں سوجاتا کیونکہ شب خون کا خطرہ ہوتا ہے اس لیے کوئی شخص حفاظت کرتا ہے پھر لشکر سوتا ہے اس قاعدے سے حضور انور نے یہ فرمایا۔اس سے معلوم ہوا کہ کسی بندے کی حفاظت لینا نہ تو شرک ہے اور نہ توکل کے خلاف نہ"فَاللہُ خَیۡرٌ حٰفِظًا"کے مخالف حقیقی حفاظت رب تعالٰی کی ہے بندے اس حفاظت کے مظہر ہیں خود حضور انور ساری امت کے محافظ ہیں"وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمْ شَہِیۡدًا"شہید بمعنی رقیب(محافظ)۔ ۶؎ حضرت ابو مرثد کا نام کنار یا انیس ہے آپ خود اور آپ کے باپ دادا بھائی سب صحابی ہیں فتح مکہ اور غزوہ حنین میں شامل ہوئے، ۲۰ھ میں وفات پائی۔ (۷)یعنی تم رات اس پہاڑی پر جاگ کر گزارو ہر چہار طرف نظر رکھو کسی طرف سے دشمن کو آتا دیکھو تو ہم کو خبر دو۔آج رات ان کے لیے یہ جاگنا پہرہ دینا اعلیٰ درجہ کی عبادت تھی۔شعر ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے ۸؎ یعنی سنت فجر ادا کیں معلوم ہوا کہ سفر میں سنت و نفل سب پورے پڑھے جائیں گے صرف چار رکعت والے فرض میں قصر ہوگا کہ وہ بجائے چار کے دو ہوں گے۔ ۹؎ یعنی کیا آج رات میں کسی وقت ابو مرثد نیچے اترے تم نے انہیں دیکھا معلوم ہوا کہ سنت فجر کے بعد فرض سے پہلے دنیاوی بات کرلینا جائز ہے اس میں حرج نہیں ہاں بلا ضرورت زیادہ بات نہ کرے(از اشعہ)معلوم یہ بھی ہوا کہ حضور کو اپنے نوکروں چاکروں خدام کی فکر رہتی ہے،آج بھی جو لوگ خدمت دین کررہے ہیں حضور کو ان کی فکر ہے پھر ہمیں اپنی فکر کیوں ہو وہ فکر کرنے والے سلامت رہیں صلی اللہ علیہ وسلم شعر۔ سن اے دشمن میں بگڑنے کا نہیں وہ سلامت ہیں بنانے والے ۱۰؎ یعنی حضور نے نماز فجر ہم کو پڑھائی مگر اس طرح کہ حضور کا گوشہ چشم اس راستہ کی طرف تھا جس سے حضور کے خادم نے آنا تھا۔رب کی نماز میں اپنے خادم کا انتظار فرمایا۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ سفر میں نماز باجماعت ادا کی جاوے اذان تکبیر وغیرہ سب کچھ ہو،دوسرے یہ کہ نماز میں گوشہ چشم سے ادھر ادھر دیکھنا نماز کو ناقص نہیں کرتا ہاں منہ پھیرنا مکروہ ہے اور سینہ پھیرنا نماز کو فاسد کردیتا ہے،تیسرے یہ کہ حضور انور تو اپنے خدام کو نماز میں ملاحظہ کرتے تھے اور حضرات صحابہ عین نماز میں حضور کی نگاہوں کو دیکھتے تھے کیونکہ ان راوی نے فجر کی نماز میں دیکھا کہ حضور گوشہ چشم سے اس طرف دیکھ رہے ہیں اور کیوں نہ ہو کہ نماز بھی عبادت ہے اور حضور کی ادائیں دیکھنا بھی عبادت ہے اس میں دو عبادتوں کا اجتماع ہے حضور کو دیکھنا وہ عبادت ہے کہ مؤمن کو صحابی بنادیتا ہے۔ ۱۱؎ یعنی سلام پھیرتے ہی دعا سے پہلے ہم کو ابو مرثد کے بخیریت پہنچنے کی خوشخبری دی یہ ہے کرم کریمانہ اس میں بھی حضور کے علم کا ظہور ہے کہ ابو مرثد ابھی نمودار بھی نہ ہوئے تھے حضور نے آڑ کے پیچھے سے یار کو دیکھ لیا اور خبر دے دی۔ ۱۲؎ خیال رہے کہ ابو مرثد نے فجر کی جماعت میں شرکت نہ کی آج ان کے لیے پہاڑی چوٹی کعبہ تھی اور ان کا وہاں رہنا جماعت تھی۔حضور کی اطاعت اصل عبادت ہے ان کی ترک جماعت پر ہماری لاکھوں باجماعت نمازیں قربان ہوں ان کی قضا پر ہماری ادائیں نچھاور ہوں۔ ۱۳؎ ابو مرثد نے آج رات کی کارروائی صحابہ کرام کو بلکہ خود حضور انور کو سنائی۔خیال رہے کہ اپنی عبادت صحابہ کرام یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوسنانا نہ تو ریا ہے نہ عبادت ناقص ہونے کا ذریعہ بلکہ یہ تو عبادات کو زیادہ قبول بنانے کا ذریعہ ہے۔حضور انور کی خوشنودی عبادات کا مغز ہے رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاللہُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرْضُوۡہُ"ساری عبادات میں اللہ تعالٰی کی رضا کے ساتھ حضور کو راضی کرنے کی بھی نیت کرو۔ ۱۴؎ یعنی میں آج رات پورے طور پر ہی حضور کی طرف سے سپرد کردہ خدمات انجام دیتا رہا ہوں میں سواء نماز یا استنجے کے کسی کام کے لیے بھی نیچے نہیں اترا۔ ۱۵؎ یعنی اب اگر تم کوئی نفلی عبادت نہ کرو یا تم اگر اب جہاد نہ کرو تو تمہارے درجے میں کمی نہ ہوگی کیونکہ تم نے آج ایسی بڑی عبادت کرلی یعنی اللہ کے رسول کی حفاظت جس سے تم جنت کے اعلیٰ درجہ پر پہنچ گئے لہذا عمل سے مراد عمل نفلی یا جہاد نفلی ہے۔(مرقات،اشعہ)مگر فقیر کہتا ہے کہ عمل سے مراد مطلقًا عمل ہے فرض ہو یا نفل کیونکہ نفلی عبادات کا چھوڑنا ویسے بھی مضر نہیں ہوتا نفل تو کہتے ہیں اسے ہیں جس کا کرنا ثواب نہ کرنا گناہ نہ ہو لہذا یہ ہی مطلب ہے کہ اگر تم فرضی عبادات بھی نہ کرو تو تم کو مضر نہیں یہ ایسے ہی ہے جیسے حضرت عثمان غنی سے فرمایا تھا کہ تم جو چاہو کرو تم جنتی ہوچکے اس کا مقصد یہ نہیں کہ تم پر فرض عبادات فرض نہ رہیں۔یہ فرمان ایسے ہیں جیسے پرندے کے پر کاٹ کر اس سے کہو کہ اڑتا پھر اب وہ اڑے کیسے دل پر قبضہ حضور نے کرلیا اب اس میں ترک عبادت کا خیال کیسے پیدا ہو اس فرمان عالی کے بعد انہوں نے نوافل اور زیادہ شروع کردیئے ہوں گے۔