| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب ہم بیت المقدس تک پہنچتے تو جبریل نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا جس سے پتھر چرگیا اس سے براق باندھا ۱؎ (ترمذی)
شرح
۱؎ میں نے اس پتھر کی اس کے سوراخ میں پیتل کے کڑے کی زیارت کی ہے جس پر براق باندھا گیا تھا اب وہ جگہ زمین دوز ہوگئی ہے کئی سیڑھیاں اتر کر وہاں پہنچنا ہوتاہے۔وہاں اندھیرا ہے روشنی کرکے نوافل پڑھے جاتے ہیں۔یہ جگہ مسجد اقصیٰ میں بائیں ہاتھ پر واقع ہے۔یہاں انبیاء کرام اپنے گھوڑے باندھاکرتے تھے یہ سواخ بند ہوگیا تھا۔جبریل امین نے اشارہ سے یہ سوراخ کھول دیا لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ ہمارا براق اس حلقہ سے باندھا گیا جس سے انبیاء کرام باندھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر178
روایت ہے حضرت جابر سے کہ خیبر والوں میں سے ایک یہودی عورت نے بھنی بکری میں زہر ملایا ۱؎ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ کردی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دستی لی اس میں کھایا ۲؎ آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ کی ایک جماعت نے کھایا۳؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ہاتھ اٹھالو اور یہودی عورت کے پاس کسی کو بھیجا اسے بلایا فرمایا کیا تو نے اس بکری میں زہر ملایا ہے وہ بولی آپ کو کس نے بتایا فرمایا مجھے اس دستی نے بتایا جو میرے ہاتھ میں ہے ۴؎ وہ بولی ہاں میں نے کہا کہ اگر وہ سچے نبی ہیں تو انہیں نقصان نہ دے گا اور اگر نبی نہیں ہیں تو ہم ان سے راحت پا جائیں گے ۵؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف فرمادیا اسے سزا نہ دی ۶؎ آپ کے جن صحابہ نےاس بکر ی سے کچھ کھایا تھا وہ وفات پا گئے۷؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھوں پر پچھنے لگوائے اس وجہ سے کہ آپ نے بکر ی سے کچھ کھایا تھا ابو ہند نے پچھنے لگائےسنگی اور چھری سے وہ بیاضہ انصاری کے غلام تھے ۸؎ (ابوداؤد،دارمی)
شرح
۱؎ اس عورت کا نام زینب بنت حارث تھا مرحب ابن ابی مرحب کی بہن تھی سلام ابن مسلم کی بیوی اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت میں زہر دیا تھا کہ زہر ملا کر گوشت بطور ہدیہ حضور انور کی خدمت میں بھیج دیا تھا۔ ۲؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ کفار کا ہدیہ قبول کرلینا مؤمن کے لیے جائز ہے۔دوسرے یہ کہ اہل کتاب کافر کا ذبیحہ حلال ہے۔تیسرے یہ کہ کفار کا پکایا ہوا کھانا مسلمان کھا سکتا ہے کہ یہ بکری یہود نے ہی ذبح کی تھی اور یہودن نے پکائی تھی اس نے ہدیۃ بھیجی تھی،چوتھے یہ کہ اللہ کی رضا پر راضی رہنا بندے کا طرہ امتیاز ہے حضور انور کو اللہ تعالٰی نے کل غیب بخشا آپ کو ہر چیز کی حقیقت معلوم ہے مگر اس وقت مرضی الٰہی تھی بعض صحابہ اس گوشت سے شہید ہوجاویں اور حضور انور کو اس گوشت سے تکلیف بہت مدت بعد میں پہنچے اوربوقت وفات یہ زہر اپنا اثر دکھائے بعد میں اس سے حضور کی وفات ہو اور شہادت کا درجہ حضور کی قدم بوسی کرے اس لیے اس وقت حضور انور کو اس زہر کی طرف توجہ ہی نہ ہوئی تاکہ تقدیر الہی ظاہر ہو کر رہے۔خیال رہے کہ بعض صحابی یہاں ہی اس زہر سے شہید ہوگئے اور حضور انور پر بوقت وفات زہر عود کر آیا اسی زہر سے حضور انور کی شہادت ہوئی جیسے حضرت صدیق اکبر پر ان کی وفات کے وقت غار ثور کا زہر لوٹ آیا تھا کہ وہاں انہیں سانپ نے کاٹا تھا،وفات دونوں حضرات کی زہر سے ہوئی وفات میں بھی حضرت صدیق کی فنا فی الرسولیت جگمگارہی ہے۔ ۳؎ ان کھانے والوں میں سے حضرت بشر ابن براء ابن مارود شہید ہوگئے۔(مرقات)اس لیے مکیدہ کا نام مکیدہ ہے اہل عرب وہاں بہت کم جاتے ہیں وہاں کی آب و ہوا صحت کے خلاف ہے۔ ۴؎ معلوم ہوتا ہے کہ خود گوشت نے حضور کو خبر دی کہ مجھ میں زہر ملا ہے مگر یہ خبر کھالینے کے بعد دی اور اگر کھانے سے پہلے خبر دی ہو تو حضور انور کا کھانا اور صحابہ کو کھانے دینا خودکشی نہیں بلکہ رضا بالقضاء ہے حضور انور جانتے تھے کہ ان لوگوں کا اور ہمارا تکلیف پانا بعض کا وفات پانا ارادہ الٰہی میں آچکا ہے جیسے ابراہیم علیہ السلام کا ذبح فرزند فرمانا۔ ۵؎ یعنی میں نے آپ کا یہ معجزہ دیکھنا چاہا کہ آپ پر زہر اثر نہ کرے میرے نزدیک آپ کی نبوت کا ثبوت یہ تھا کہ آپ کی وفات اس زہر سے نہ ہو۔ ۶؎ یعنی اپنی تکلیف کا اس سے بدلہ نہ لیا اور بشرکے وارثوں سے معافی دلوادی انہوں نے قصاص معاف کردیا قصاص مقتول کے وارثوں کا حق ہوتا ہے بعض روایات میں ہے کہ وہ عورت یعنی زینب بنت حارث مسلمان ہوگئی واللہ ورسولہ اعلم اس نے کہا کہ میں نے آپ کی نبوت اس معجزے سے معلوم کرلی میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ ایک ہے آپ اس کے سچے رسول ہیں۔(مرقات) ۷؎ مرقات نے یہاں فرمایا کہ صرف بشر کی وفات اس زہر سے ہوئی مگر اس جمع کے صیغہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وفات چند حضرات کی ہوئی۔خیبر میں تیرہ شہداء کے مزارات ہیں میں نے ان کی زیارت کی ہے غالبًا یہ تیرہ حضرات اس وقت کے شہید ہیں واللہ ورسولہ اعلم۔ہوسکتا ہے کہ بشر فورًا موقعہ پر شہید ہوگئے ہوں باقی بارہ صحابہ کچھ دن بعد فوت ہوئے ہوں،اشعۃ اللمعات نے یہ ہی توجیہ فرمائی ہے۔ ۸؎ ابو ہند کا نام یسار حجام ہے قرن بمعنی سینگ اس سے مراد ہے سنگی شغرہ چوڑی چھری کو کہتے ہیں۔آپ کا یہ فصد لینا زہر کی گرمی دور کرنے کے لیے تھا گویا علاج تھا۔