| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس رات جس رات میں معراج کرائی گئی براق لایا گیا لگام و زین دیا ہوا تو آپ پر اس نے سرکش کی۱؎ تو اس سے جبریل نے کہا کہ کیا محمد کے ساتھ تو یہ کرتا ہے ۲؎ ان سے زیادہ اللہ کے نزدیک عزت والا تجھ پر کوئی نہیں سوار ہوا ۳؎ فرمایا وہ پسینہ سے نچوڑ گیا(۴)(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎ یعنی کودنے اچھلنے لگا یہ کودنا اچھلنا خوشی میں تھا مگر اس سے سواری میں دقت واقع ہوئی۔خیال رہے کہ معراج میں براق کی سواری حضور کے اعزاز کے لیے تھی ورنہ حضور کو سواری کی کوئی ضرورت نہ تھی حضرات انبیاء کرام اس رات بیت المقدس میں پھر آسمانوں پر بغیر سواریوں کے گئے کیونکہ وہ حضرات اس رات براتی تھے۔حضور دولہا تھے دولہا سواری پر ہوتے ہیں براتی پیدل۔ ۲؎ یعنی اے براق تیری یہ شوخی اگرچہ فخر یا خوشی سے ہے مگر بے ادبی ظاہر کررہی ہے تو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے شرم کر یہاں ادب کی جگہ ہے۔ ۳؎ بعض لوگوں نے اس عبارت سے دھوکا کھایا ہے کہ اس براق پر حضرات انبیاء کرام سوار ہوتے رہے ہیں آج حضور سوار ہورہے ہیں مگر یہ استدلال بہت کم زور ہے اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اور لوگ سوار تو ہوئے ہیں مگر وہ حضور کی طرح معزز و مکرم نہ تھے۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ کوئی سوار ہوا ہی نہیں یہ تجھ پر پہلے سوار ہیں اور سب سے بے مثال ہیں،کسی نبی کو نہ تو معراج ہوئی نہ انہیں کبھی براق کی سواری کی ضرورت پیش آئی۔ ۴؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ براق کی اچھل کود خوشی میں تھی اور یہ پسینہ آنا بے ادبی کی شرمندگی سے ہوا۔بعض واعظین بیان کرتے ہیں کہ براق نے حضور سے وعدہ لیا کہ قیامت میں آپ مجھے اپنی سواری کے لیے منتخب فرمائیں وعدہ فرمایا تب وہ خاموش کھڑا ہوگیا۔یہ روایت کسی معتبر کتاب میں نہیں ملی۔و الله اعلم! اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اچھل کود ناز کی تھی۔شعر کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے نیا مند نہ کیوں عاجزی سے ناز کرے
حدیث نمبر177
روایت ہے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ تمہاری مدد کی جاوے گی اور تم غنیمتیں پانے والے ہو تم کو فتح دی جاوے گی۱؎ تو جو تم میں سے یہ پائے وہ اللہ سے ڈرے بھلائیوں کا حکم دے برائیوں سے منع کرے ۲؎ (ابو دا ؤد)
شرح
۱؎ یعنی ہمارے زمانہ حیات میں بھی اور بعد وفات بھی تم کو بہت ملک فتح ہوں گے۔یہ غیبی خبر ہے جو ہو بہو ظاہر ہوئی خصوصًا زمانہ فاروقی ہیں۔ ۲؎ یعنی ان فتوحات کے بعد تم اپنا فرض منصبی بھول نہ جانا۔تبلیغ جاری رکھنا کہ جہادوں بلکہ فتوحات کا منشا یہ ہی ہے۔شعر جنگِ شاہاں فتنہ و غارت گری است جنگ مؤمن سنت پیغمبری است کافر دنیا کے لیے ملک گیری خدمت ملک کے لیے لڑتا ہے مؤمن خدمت دین اور اعلاء کلمہ رب العالمین کے لیے لڑتا ہے۔