| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت حذیفہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا میرے ساتھیوں میں اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا کہ میری امت میں بارہ منافق ہیں۔۱؎ جو جنت میں داخل نہ ہوں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے حتی کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل ہوجاوے ۲؎ ان میں سے آٹھ وہ ہیں جنہیں ایک پھوڑا ہی کافی ہوگا آگ کا شعلہ جو ان کے کندھوں میں ظاہر ہوگا حتی کہ ان کے سینوں میں پار ہوجاوے گا ۳؎(مسلم)ہم سہل ابن سعد کی حدیث کہ میں یہ جھنڈا کل دوں گا جناب علی رضی اﷲ عنہ کے فضائل میں ذکر کریں گے اور حضرت جابر کی حدیث کہ جو اس گھاٹی پر چڑھ جاوے ان شاءاﷲ جامع المناقب باب میں ہم ذکر کریں گے۔
شرح
۱؎ ان منافقوں کو اصحاب یا امت لغوی معنی سے فرمایا گیا ہے ورنہ منافق نہ صحابی ہے نہ حضور کا امتی(یعنی مسلمان) صحابی وہ ہے جو بحالت ایمان حضور کی زیارت کرے اور ایمان پر ہی اس کا خاتمہ ہو۔خیال رہےکہ یہ فرمان عالی غزوہ تبوک کےموقعہ پر ہوا جب کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم غزوہ تبوک سے واپس لوٹ رہے تھے تو ایک شب جسے لیلۃ العقبہ کہتے ہیں حضور انور ایک گھاٹی میں اترے آپ کے ساتھ عمار ابن یاسر اور حذیفہ ابن یمان تھے چوتھا منافقین نے سازش کی غار میں پہنچ کر حضور انور پر حملہ کردیں اس ارادے سے وہ غار میں پہنچے مگر حذیفہ و عمار کو دیکھ کر بھاگ گئے۔حضور نے جناب حذیفہ سے پوچھا کہ کیا تم ان لوگوں کے نام جانتے ہو عرض کیا کہ نہیں فرمایا ہم جانتے ہیں تم کو ان کے نام بتائیں گئے ان سے دو توبہ کرلیں گے اور بارہ دوزخی ہیں یہاں یہ واقعہ مذکور ہے بعد میں حضور انور نے جناب حذیفہ کو ان کے نام بتائے تابعین میں اکثر لوگ حضرت حذیفہ سے ان بارہ کے نام پوچھا کرتے تھے۔(مرقات) ۲؎ یعنی ان میں سے آٹھ منافق کفر پر مریں گے جنت میں ہرگز نہ جاسکیں گے۔اس فرمان کا ماخذ قرآن مجید کی یہ آیت ہے"وَلَا یَدْخُلُوۡنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیۡ سَمِّ الْخِیَاطِ"یہ ہے حضور انور کا علم غیب کہ لوگوں کی موت اس کی کیفیت سعادت شقاوت سے خبردار ہیں حالانکہ یہ چیزیں علوم خمسہ سے ہیں۔ ۳؎ دبیلہ تصغیر ہے دبلۃ کی،دبلہ اندرون جسم میں ایک پھوڑا ہوتا ہے جو اندر ہی پھوٹ جاتا ہے آدمی مرجاتا ہے اسے فارسی میں عرسلک کہتے ہیں غالباٍ یہ کینسر پھوڑا ہے۔جسے سرطان بھی کہا جاتا ہے،بعض شارحین نے کہ فرمایا کہ یہ طاعون کی گلٹی ہے مگر پہلی بات زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے۔اس پھوڑے میں اس غضب کی سوزش اور بدبو ہوتی ہے کہ خدا کی پناہ اسی لیے حضرت حذیفہ نے دبیلہ کی تفسیر سراج من نار سے کی یعنی اس پھوڑے سے بیمار کو ایسی سوزش وجلن ہوتی ہے جیسے اس کے جسم میں آگ کا شعلہ بھڑکا ہوا ہے۔خلاصہ فرمان یہ ہے کہ ان آٹھ منافقوں کو دنیا میں یہ عذاب ہوگا کہ ان کی موت ایسی مصیبت اور ذلت و خواری سے ہوگی،اخروی عذاب یہ ہے کہ وہ کفر پر مریں گے ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے،دیکھو حضور انور کا علم کہ حضور کو ہرشخص کی دنیا و دین دونوں کی خبر ہے نبی کے معنی ہیں خبردار۔ ۴؎ یعنی یہ دونوں حدیثیں مصابیح میں یہاں تھیں ہم نے وہاں بیان کیں کہ وہاں کے مناسب ہیں۔
حدیث نمبر174
روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک بھیڑیا کسی بکریوں کے چرواہے کی طرف گیا ان میں سے ایک بکری پکڑی اسے چرواہے نے تلاش کیا حتیٰ کہ بکری کو اس سے چھڑالیا ۱؎ فرمایا کہ بھیڑیا ٹیلہ پر چڑھ گیا ہےوہاں بیٹھ گیا اور دم دبالی اور بولا کہ میں نے اس روزی کا ارادہ کیا جو مجھے اللہ نے دی میں نے اسے لیا پھر تو نے وہ مجھ سے چھین لی ۲؎ تو یہ شخص بولا اللہ کی قسم میں نے آج جیسا واقعہ کبھی نہ دیکھا بھیڑیا باتیں کررہا ہے ۳؎ تو بھیڑیا بولا کہ اس سے عجیب تو یہ ہے کہ ایک صاحب دو پہاڑوں کے بیچ کھجوروں کے جھنڈوں میں ۴؎ تم کو ساری گزشتہ اور آنے والی باتوں کی خبر دے رہے ہیں۵؎ وہ شخص یہودی تھا ۶؎ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو آپ کو یہ خبر دی اور مسلمان ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ یہ قیامت کے آگے نشانیاں ہیں ۷؎ قریب ہے کہ ایک شخص نکلے گا تو نہ بولے گا حتیٰ کہ اس کے جوتے اور اس کا کوڑا اسے ان باتوں کی خبریں دیں گے جو اس کے پیچھے اس کے گھر والوں نے کیں ۸؎ (شرح سنہ)
شرح
۱؎ یعنی چرواہے نے بھیڑیئے کا پیچھا کرکے شور مچا کر اس کو مار پیٹ کر اس کے منہ سے بکری چھڑالی یہ اس کی بہادری تھی ورنہ بلی کے منہ سے چڑیا چھڑانا مشکل ہے۔ ۲؎ یعنی تو نے مجھ پر ظلم کیا کہ رب کی دی ہوئی روزی مجھ سے چھین لی۔ ۳؎ یعنی میں نے ایسا کبھی نہ دیکھا نہ سنا کہ بھیڑیا انسان سے ایسی فصیح زبان میں باتیں کرے یہ تو عجیب تربات ہے یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ حیات شریف میں ہوا جب کہ حضور ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں آگئے تھے یہ شخص حضور انور سے بالکل بے خبر تھا جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ ۴؎ اس سے مراد زمین مدینہ ہے کہ یہ دو سیاہ پہاڑوں کے بیچ میں ہے اور اس میں کھجوروں کے درخت بہت ہیں جیسا کہ زیارت کرنے والوں پر ظاہر ہے۔ ۵؎ یعنی تمام غیبی خبریں دے رہے ہیں از آدم علیہ السلام تا روز قیامت ہر بات لوگوں کو بتارہے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ حضور کا علم غیب جانور بھی مانتے تھے جو انسان ہو کر اس کا انکار کرے وہ جانوروں سے بھی گیا گزرا ہے۔ ۶؎ یہ شخص وہ صحابی ہیں جنہیں بھیڑیئے کے ذریعہ ایمان ملا،بعض صحابہ کو تابعین کے ذریعہ ایمان ملا جیسے حضرت عمرو بن عاص کو ایمان ملا نجاشی شاہ حبشی کے ذریعہ اور نجاشی تابعی تھے۔یار کے جلوے رنگ برنگے ہیں کسی کو صحابہ کے ذریعہ ایمان دیتا ہے اور کسی کے ذریعہ صحابی کو ایمان ملتا ہے۔اس یہودی کا نام ہبار ابن اوس خزاعی ہے اور اس کا لقب معلم الذئب ہے،یعنی جس سے بھڑیئے نے کلام کیا۔(از مرقات) ۷؎ یعنی بھیڑیئے کا انسان سے یہ کلام کرنا علامات قیامت سے ہے اب قیامت قریب ہے اور یہ حضور انور کا معجزہ بھی ہے معجزہ کے لیے تصر ف ضروری نہیں۔حسن یوسفی،لحن داؤدی ان حضرات کے معجزے تھے حالانکہ وہ ان میں تصرف نہیں کرتے تھے۔ ۸؎ یعنی قریب قیامت کوئی شخص اپنا جوتا اپنا کوڑا اپنے گھر چھوڑجاوے گا وہ دونوں گھر والوں کی آوازیں ان کے کام کیچ کرلیں گے اس شخص کے آنے پر یہ دونوں سب کچھ بتادیں گے۔یہ زمانہ اب بہت ہی قریب معلوم ہوتا ہے۔ایسے آلات ایجاد ہوچکے ہیں کہ جو آوازیں صورتیں کیچ(جذب)کرلیتے ہیں اور مشین پر لگانے سے سب کچھ بول دیتے ہیں جیسے ٹیپ ریکارڈر وغیرہ،ٹیلی ویژن نے تو کمال کردیا ہے کہ وہ تو صورت بھی اپنے میں کیچ کرکے سب کو دکھادیتا ہے۔