روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں کہ ابو طالب شام کی طرف گئے ان کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے سرداروں کی جماعت میں تشریف لے گئے ۱؎ جب وہ اس راہب پر پہنچے تو اترے اپنی سواریاں کھولیں ۲؎ ان کے پاس وہ راہب آیا حالانکہ اس سے پہلے یہ لوگ اس پر گزرتے تھے وہ ان کے پاس نہ آتا تھا ۳؎ فرمایا کہ لوگ اپنے سامان کھول رہے تھے راہب ان لوگوں کے درمیان گھسنے لگا ۴؎ حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا بولا یہ تمام نبیوں کے سردار ہیں یہ رب العالمین کے رسول ہیں اللہ انہیں جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گا۵؎ تو سرداران قریش نے اس سے کہا کہ تجھے کیسے علم ہوا ۶؎ وہ بولا کہ تم جب اس گھاٹی سے سامنے آئے تو کوئی درخت پتھر نہ رہا مگر وہ سجدے میں گر گیا۷؎ یہ مخلوق نبی کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتی ۸؎ اور میں انہیں مہر نبوت سے پہچانتا ہوں جو ان کے کندھے کی ہڈی کے نیچے سیب کی طرح ہے ۹؎ پھر وہ لوٹ گیا ان لوگوں کے لیے کھانا تیار کیا جب ان لوگوں کے پاس کھانا لایا اور حضور اونٹ چرانے میں مشغول تھے تو بولا انہیں بلا بھیجو ۱۰؎ چنانچہ آپ آئے آپ پر بادل تھا جو سایہ کررہا تھا ۱۱؎ جب آپ قوم سے قریب ہوئے تو ان کو درخت کے سایہ میں پہلے پہنچا ہوا پایا جب حضور بیٹھے تو درخت کا سایہ آپ پر جھک گیا ۱۲؎ وہ بولا دیکھو درخت کا سایہ کہ آپ پر جھک گیا پھر بولا میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ان کا ولی کون ہے لوگوں نے کہا ابو طالب ہیں وہ انہیں قسمیں دیتا رہا حتی کہ حضور کو ابوطالب نے لوٹا دیا ۱۳؎ اور حضور کے ساتھ ابوبکر نے بلال کو بھیجا ۱۴؎ اس راہب نے آپ کو بسکٹ اور تیل کا توشہ دیا ۱۵؎(ترمذی)
شرح
۱؎ اس وقت حضور کی عمر بارہ سال تھی ابو طالب تجارتی قافلہ لے کر مکہ معظمہ سے شام کی طرف گئے تھے حضور انور بخوشی تشریف لے گئے(ازاشعہ)تشریف لے جانے میں وہ راز تھا جو آگے آرہا ہے یعنی بحیرہ راہب کو جمال دکھا کر ایمان بخشنا۔ ۲؎ اس عیسائی پادری کا نام بحیرہ تھا اور اس منزل کا نام بصری تھا یہ جگہ شام میں واقع ہے۔(اشعہ)بحیرہ عیسائیوں کا بڑا عالم بھی تھا بڑا عابد بھی لہذا ان روایات میں تعارض نہیں جن میں اسے عالم کہا گیا ہے بعض میں عابد۔ ۴؎ بعض علماء کو میں نے فرماتے سنا کہ یہ راہب اس راستہ پر اس لیے بیٹھا تھا کہ اسے معلوم ہوا تھا کہ نبی آخر زمان اس راہ سے کبھی گزریں گے وہ شوق زیارت میں یہاں تھا۔والله و رسولہ اعلم۔ قافلے اس پر گزرتے تھے وہ پرواہ بھی نہ کرتا تھا کیونکہ ان قافلوں میں اسے تجلی و انوار نظر نہ آتے تھے۔آج اس نے اس قافلہ میں آثار نبوت دیکھے۔شعر ہمہ آہوان صحرا سر خود نہادہ برکف بہ امید ز آنکہ روزے بشکار خواہی آمد دوسرے شکاری شکار کو ڈھونڈھتے ہیں وہ ایسے شکاری ہیں کہ شکار انہیں ڈھونڈتے ہیں۔ ۴؎ یعنی اس قافلہ کے رکتے ہی وہ اس قافلہ میں آن گھسا اور فردًا فردًا۔ایک ایک کو دیکھنے لگا خاتم النبیین کا جو نقشہ اس کے ذہن میں تھا بہ تعلیم انجیل وہ کسی کے مطابق نہ ہوا۔ ۵؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ العالمین سے مراد اولین و آخرین تمام جہان ہے حضور گزشتہ موجودہ آئندہ ساری مخلوق کے نبی رحمت اور سردار ہیں اب سارے انبیاء کرام اور ان کی امتیں حضور کی امت ہیں۔(ازمرقات)اللہ تعالٰی رب العالمین ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سید العالمین رحمۃ للعالمین،رسول عالمین ہیں۔ ۶؎ یعنی تو نے حضور کے یہ اوصاف حمیدہ کس ذریعہ سے پہچا نے ابھی تو نے ان کے حالت دیکھے بھی نہیں ہیں۔خیال رہے کہ اہل مکہ ولادت پاک سے بھی حضور انور کے معجزات جنہیں ارہاص کہتے ہیں دیکھا کرتے تھے،ان میں سے بعض لوگ حضور کی نبوت پہچان گئے تھے مگر بحیرہ نے تو ابھی کچھ بھی نہ دیکھا تھا۔اس لیے انہوں نے بطور تعجب پوچھا۔ ۷؎ بحیرہ راہب اس زمانہ کے اولیاء اللہ میں سے تھا اس نے اپنے کشف سے ان تمام کا سجدہ میں گرنا دیکھ لیا اور لوگ نہیں دیکھ سکے درخت و پتھروں کے سجدہ کی نوعیت کیا تھی یہ تو دیکھنے والے ہی جانیں۔خیال رہے کہ اولیاء اللہ کا وجود دین کی حقانیت کی دلیل ہے جس دین میں اولیاء اللہ ہوں وہ سچا ہے جس درخت میں پھل پھول ہو اس کی جڑ ہری ہے چونکہ اس وقت عیسائیت تھی وہاں اولیاء اللہ تھے منسوخ ہوتے ہی وہاں ولایت نہ رہی مسلمانوں کے صدہا فرقے ہیں مگر سوا ء اہل سنت کے اولیاء اللہ کسی فرقہ میں نہیں ٖپتہ لگا کہ یہ ہی مذہب برحق ہیں۔ ۸؎ خیال رہے کہ انسانوں کے سوا تمام چیزیں حضور کو سجدہ کرتی تھیں اونٹوں نے حضور کو سجدہ کیا یہاں معلوم ہوا کہ درختوں پتھروں نے حضور کو سجدہ کیا۔انسانوں کو بھی سجدۂ سر حرام ہے دل و جان و ایمان حضور کو سجدہ کناں ہیں۔شعر گو سجدہ سر ہے ان کو منع لیکن دل و جان ہیں سجدہ کناں ہے حکم شریعت سر پہ رواں دل و جان نے اجازت پائی ہے ۹؎ بعض روایات میں ہے کہ اس نے حضور کی مہر نبوت کی زیارت کی اور اہل مکہ سے حضور انور کے سونے جاگنے کھانے پینے چلنے پھرنے وغیرہ کے حالات پوچھے سب کچھ انجیل کی مذکورہ علامات کے موافق پایا۔(اشعہ)غضروف وہ نرم ہڈی جو جوڑوں کے ملنے کی جگہ ہوتی ہے نہ گوشت کی طرح بالکل نرم نہ ہڈی کی طرح ایک دم سخت(لمعات)یہ ہڈی اور گوشت کے درمیان وابسطہ ہوتی ہے۔ ۱۰؎ یعنی یہ راہب کھانا پکا کر ان لوگوں کے پاس لایا یہ سب لوگ اپنی جگہ موجود تھے حضور انور یہاں نہ تھے آپ اونٹ چرانے کچھ فاصلے پر تھے اس نے سمجھا کہ جس دولہا کی خاطر یہ کھانا پکایا گیا ہے وہ تو یہاں موجود نہیں برات بغیر دولہا کیسے سجے بولا دولہا کو بلاؤ پھر کھانا کھاؤ۔ ۱۱؎ خیال رہے کہ گرمی میں دن کے وقت حضور انور پر بادل سایہ کرتا تھا،رات کو کبھی نہیں،دن میں سردی کے موسم میں بادل سایہ نہیں کرتاتھا تاکہ گرمی میں حضور کو دھوپ کی تکلیف نہ ہو اور اول ہی سے جسم پاک بے سایہ تھا خوشبو دار تھا کبھی جسم اقدس پر مکھی نہیں بیٹھتی تھی یہ حضور انور کے ارہاصات ہیں جو ظہور نبوت سے پہلے ظاہر تھے،بعض نادان کہتے ہیں کہ جب حضور انور پر بادل سایہ کیے رہتا تھا تو جسم اقدس کا بے سایہ ہوناکیونکر معلوم ہوا۔ان کا یہ سوال عبث ہے کیونکہ سایہ صرف دھوپ میں نہیں پڑتا بلکہ چاندی میں شمع کے سامنے بھی پرتا ہے،نیز رات میں اور سردیوں کے دن میں بادل سایہ نہیں کرتا تھا اس سے بے سایہ ہونا ظاہر ہوجاتا تھا۔ ۱۲؎ یعنی جس درخت کے نیچے ان تمام کو کھانا کھلانے کا انتظام کیا گیا تھا اس درخت کا سایہ پر ہوچکا تھا لوگ وہاں بیٹھ چکے تھے حضور انور مجمع کے کنارے پر بیٹھ گئے۔جہاں درخت کا سایہ نہ تھا۔خیال رہے کہ بادل حضور پر چھتری کی طرح سایہ کرتا تھا کہ صرف آپ پر سایہ رہے تاکہ معجزہ ہونا ثابت ہو لہذا یہاں یہ اعتراض نہیں پڑ سکتا کہ حضور کو درخت کے سایہ کی ضرورت ہی نہ تھی آپ پر تو بادل کا سایہ تھا،نیز درخت بھی حضور انور کی خدمت کرنا چاہتا تھا،رب کی مرضی تھی کہ محبوب کا یہ دوسرا معجزہ ظاہر ہو۔خیال رہے کہ یہ درخت حضور کی خدمت میں جھک گیا۔اس بے سایہ والے پر اپنا سایہ ڈال دیا۔اس طرح کہ دوسرے کنارہ کے لوگ سایہ سے نکل کر دھوپ میں ہوگئے تاکہ سب کو اس معجزہ کا مشاہدہ ہو مرقات نے فرمایا کہ اس وقت بادل ہٹ گیا اور درخت کا سایہ حضور پر پڑنے گا۔ ۱۳؎ بحیرہ نے کہا کہ ان کی شہرت دنیا بھر میں پہنچ چکی ہے رومی کفار ان کے درپئے آزار ہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو قتل کردیں ان کی حفاظت کرو مکہ واپس بھیج دو۔ابو طالب نے منظور کرلیا،حاکم کی روایت میں ہےکہ اس دوران میں راہب کو سات رومی ملے جو حضور انور کے قتل کے ارادے سے اس طرف آتے تھے انہیں بھی کاہنوں نے پتہ بتایا تھا کہ نبی آخر الزماں اس ماہ اس راستہ سے گزریں گے بحیرہ نے بمشکل انہیں واپس کیا(اشعہ) ۱۴؎ ابن حجر نے اصابہ میں فرمایا کہ حدیث بالکل صحیح ہے اس کے راوی سارے ثقہ ہیں اتنی عبارت کہ ابوبکر صدیق نے بلال کو حضور انور کے ساتھ بھیجا کسی کی ملائی ہوئی ہے یہ باطل محض ہے کیونکہ بلال تو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ڈھائی سال حضور سے چھوٹے تھے۔اس وقت حضور انور کی عمر بارہ سال تھی تو جناب صدیق کی عمر ساڑھے نو سال تھی۔غرضکہ اتنی روایت غلط ہے۔(لمعات،مرقات،اشعہ) ۱۵؎ امام قیروی کعب نے فرمایا کہ اس حدیث کی اسناد کے تمام راوی مسلم بخاری کے راوی ہیں سارے ثقہ ہیں۔(اشعہ)
حدیث نمبر175
روایت ہے حضرت ابوالعلاء سے ۱؎ وہ سمرہ ابن جندب سے راوی ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک پیالے سے صبح سے رات تک کھاتے رہتے تھے دس اٹھتے اور دس بیٹھتے تھے ۲؎ ہم نے کہا کہ کہاں سے بڑھتا تھا ۳؎ فرمایا تم کس چیز سے تعجب کرتے ہو وہ نہ بڑھتا تھا مگر وہاں سے اور اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ۴؎ (ترمذی،دارمی)
شرح
۱؎ ابو العلاء عین کے فتح سے تابع ہیں آپ کا نام یزید ابن عبداللہ ابن خنجر ہے، ۱۱۱ھ ایک سو گیارہ میں آپ کی وفات ہوئی(اکمال۔مرقات) ۲؎ یعنی ایک بار ہم نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ اپنی آنکھوں سے دیکھا بلکہ تجربہ کیا کہ ایک پیالہ کھانا سینکڑوں آدمیوں کو کافی ہوا کہ صبح سے شام تک لوگ اس سے کھاتے رہے سیر ہوتے رہے یہ پتہ نہیں چلا کہ یہ واقعہ کس وقت اور کس جگہ کا ہے۔ ۳؎ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں فَمِمَّا ہے مطلب دونوں کا ایک ہی ہے کہ یہ برکت کہاں سے آرہی تھی فَمِمَّا کی من ابتدائیہ ہے اور جن نسخوں میں من نہیں ہے تب بھی مطلب یہ ہی ہے کہ وہ کیا چیز تھی جو برکت کا باعث تھی۔ ۴؎ غالب یہ ہے کہ سائل ابوالعلاء ہیں اور جواب دینے والے حضرت سمرہ ابن جندب ہیں ہوسکتا ہے کہ کوئی اور صاحب سائل ہوں جواب دینے والے ابوالعلاء ہوں۔