| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت ابوذررضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم مصر فتح کرو گے ۱؎ وہ وہ جگہ ہے جس میں قیراط کا بہت نام لیا جاتا ہے ۲؎ تو جب تم اسے فتح کرو تو اس کے باشندوں سے بھلائی کرنا ۳؎ کیونکہ اس کا احترام ہے اور قرابت داری ہے یا فرمایا کہ سسرالی رشتہ ہے ۴؎ پھر جب تم دو شخصوں کو اینٹ بھر جگہ میں جھگڑتے دیکھو تو وہاں سے نکل جانا ۵؎ راوی نے فرمایا کہ میں نے عبدالرحمن ابن شرحبیل ابن حسنہ اور ان کے بھائی ربیعہ کو دیکھا گیا کہ وہ ایک ایک اینٹ بھر جگہ میں جھگڑ رہے تھے تو میں وہاں سے نکل گیا۶؎(مسلم)
شرح
۱؎ مصر سے مراد یہ ہی مشہور شہر مصر ہے جہاں یوسف علیہ السلام نے سلطنت فرمائی۔ ۲؎ قیراط بہت چھوٹا سا وزن ہے یعنی دینار کا بیسواں حصہ یعنی وہاں کے تاجرین بہت ہی بے مروت ہیں کسی کی رعایت رتی بھر بھی نہیں کرتے قیراط تک کا حساب کرتے رہتے ہیں اگرچہ وہ چند رتی کا ہو یہ کہتے رہتے ہیں اتنی چھٹانک اتنی رتی۔معلوم ہوا کہ اہل مصر معاملات میں بہت سخت ہیں،یہ بھی معلوم ہوا کہ تاجر کو سخت گیر ہونا نہیں چاہیے معمولی چیزوں میں تولہ رتی کا حساب نہ کرے سونا چاندی اور چیز ہے اس میں رتی کا بھی حساب لگتا ہے۔ ۳؎ یعنی اگرچہ مصر والے معاملات میں سخت ہیں ان کے مزاج بھی سخت ہیں طبیعت بھی تیز ہے مگر تم ان کی سختی برداشت کرنا ان سے برتاؤ اچھا کرنا ان کی سختی کا بدلہ نرمی سے کرنا۔ ۴؎ یعنی ہم کو مصر والوں سے دو طرح تعلق ہے ایک یہ کہ ماریہ قبطیہ مصر سے آئی تھیں جن کے بطن شریف سے ابراہیم ابن رسول اﷲ پیدا ہوئے لہذا وہاں کے لوگوں کو ہماری طرف سے امان ہے ذمہ بمعنی امان،دوسرا تعلق یہ ہے کہ ہماری دادی صاحبہ حضرت ہاجرہ رضی اﷲ عنہا مصر ہی سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ملی تھیں انہیں کی اولاد سے ہم ہیں وہ ہماری دادی کا وطن ہے لہذا ان لوگوں سے ہماری قرابت داری بھی ہے۔صھر کے معنی ہیں سسرالی رشتہ یعنی ہماری لونڈی ماریہ مصر کی ہیں لہذامصر میں ہمارا سسرالی رشتہ ہے۔اس فرمان عالی سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ مسلمان کو چاہیے کہ اپنے نسبی رشتہ کی طرح سسرالی رشتہ کا بھی احترام کرے،ساس سسر کو اپنا ماں باپ سمجھے،ان کی قرابت داروں کو اپنا عزیز جانے بلکہ انکی بستی کا وہاں کے باشندوں کا احترام کرے کہ وہ ساس و سسر کے ہم وطن ہیں۔دوسرے یہ کہ نبی کے رشتہ داروں بلکہ نبی کے ملک والوں کا بھی ادب کرے لہذا ہم پر لازم ہے کہ حضور کی اولاد کا مکہ والوں کا احترام و ادب کریں ان کی سختی پر تحمل کریں اہل عرب کی سختی پر سختی تحمل کرنے والوں کے لیے شفاعت کا وعدہ ہے وہ لوگ کیسے ہی سہی مگر ہمارے رسول کے اہل وطن ہیں حضور کے پڑوسی ہیں۔ایک بزرگ گولڑوی غلام محی الدین صاحب حج کے بعد جناب حلیمہ سعدیہ کے گاؤ ں پہنچے وہاں سات دن قیام کیا ہر روز الگ الگ جماعتوں کی دعوت فرماتے رہے حتی کہ ایک دن وہاں کے کتوں کی دعوت کی حلوہ پوری وغیرہ پکوا کر خود انہیں کھلاتے تھے روتے جاتے تھے کہ یہ جناب حلیمہ کے وطن کے کتے ہیں ان سب باتوں کا ماخذ یہ حدیث ہے۔غرض یہ کہ وہاں کے درو دیوار کی عزت کرے افسوس ! ان بے دینوں پر جو ازواج پاک یا صحابہ کبار کی برائیاں کرتے ہیں وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس سے حضور کو ایذا ہوتی ہے۔ ۵؎ یہ حکم حضرت ابوذر کو دیا گیا کہ تم یہ واقعہ دیکھو گے کہ دو آدمی ایک اینٹ بھر جگہ میں لڑیں گے جب یہ دیکھو تب مصر میں نہ رہنا کیونکہ یہ ایک بڑے فتنہ کی ابتداء ہوگی جس کا مرکز مصر ہوگا ایسا ہی ہوا کہ اس کے بعد اہل مصر نے حضرت عثمان غنی سے بغاوت کردی انہیں شہید کرنے کے بعد محمد ابن ابوبکر کو جو حضرت علی کی طرف سے وہاں گورنر تھے شہید کردیا پھر ایسے فتنے اٹھے کہ خدا کی پناہ یہ ہے حضور کا علم غیب۔(مرقات) ۶؎ شرحبیل ابن حسنہ صحابی ہیں اور عبدالرحمن ربیعہ دونوں ان کے بیٹے ہیں یہ جھگڑا اس وقت ہوا جب کہ حضرت عثمان کا آخری دور خلافت تھا عبداﷲ ابن سعد ابن ابی سرح یعنی حضرت عثمان کا رضاعی بھائی حضرت عثمان کی طرف سے مصر کا گورنر تھا اہلِ مصر اس کی گورنری سے ناراض ہوئے حتی کہ واقعہ شہادت عثمان پیش آگیا یہ اینٹ بھر جگہ پر جھگڑا اس فتنہ کی ابتداء کی علامت تھا۔اﷲ اکبر! حضور کا علم کس قدر وسیع ہے۔
حدیث نمبر173
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا بولا میں کیسے پہچانوں کہ آپ نبی ہیں۱؎فرمایا اگر میں اس خوشہ کو اس درخت سے بلاؤں تو وہ گواہی دے گا کہ میں اللہ کا رسول ہوں۲؎ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا وہ کھجور کے درخت سے اترنے لگا حتٰی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گرگیا پھر فرمایا لوٹ جاؤ وہ لوٹ گیا ۳؎ یہ دیہاتی مسلمان ہوگیا ۴؎ (ترمذی)
شرح
۱؎ یعنی مجھے کوئی معجزہ دکھائیں جس سے میں آپ کی نبوت کو پہچانوں۔معلوم ہوا کہ معجزہ نبوت کی دلیل ہوتا ہے دیگر انبیاء کرام کو گنے چنے معجزے عطا ہوئے۔حضور کے معجزات بے شمار گزشتہ نبیوں کے معجزات ان کی وفات پر ختم ہوگئے،حضور کے بہت سے معجزے تاقیامت باقی۔ ۲؎ عذق کا ترجمہ اردو میں ہے گُدّھا یعنی درخت کی وہ موٹی شاخ جس میں چھوٹی اور پتلی بہت سی شاخیں ہوں یہ تحقیق ہے مرقات کی مگر لمعات اور اشعہ میں ہے کہ عذق بمعنی خوشہ یہاں بمعنی خوشہ ہی معلوم ہوتا ہے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ ۳؎ یعنی اس خوشہ گچھے کی کھجوریں ایک ایک کرکے آپ کے دامن میں گری پھر اسی طرح اوپر اٹھ گئیں۔اور اپنے خوشہ سے لگ گئی ان کا یہ آنا جانا ہی گویا انکی گواہی تھی۔ ۴؎ حضور پر ایمان مختلف ذریعوں سے لوگوں کو حاصل ہوا ہے کوئی آپ کو دیکھ کر ہی ایمان لایا کوئی آپ کے صفات عالیہ میں غور کرکے کوئی آپ کا کلام سن کر اور کوئی صرف نام سن کر کوئی کسی خاص معجزے سے یہ اعرابی اس آخری قسم میں سے تھا جو معجزہ دیکھ کر ایمان لایا۔