| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت ابو حمید ساعدی سے فرماتے ہیں ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں گئے تو وادی قری میں ایک عورت کے باغ پر پہنچے ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس باغ میں پھلوں کا اندازہ لگاؤ ۲؎ ہم نے لگایا اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے دس وسق اندازہ لگایا ۳؎ اور اس عورت سے کہا کہ اس کا وزن خیال رکھنا حتی کہ ہم تجھ تک ان شاءالله واپس ہوں ۴؎ ہم چلے گئے حتی کہ تبوک پہنچ گئے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آج رات تم پر سخت ہوا چلے گی تو اس میں کوئی کھڑا نہ ہو جس کے پاس اونٹ ہو وہ اس کی رسی مضبوط باندھ دے ۵؎ چنانچہ بہت سخت ہوا چلی ایک شخص کھڑا ہوگیا اسے ہوا نے اٹھالیا حتی کہ اسے طی کے پہاڑوں پر پھینک دیا ۶؎ پھر ہم آئے حتی کہ وادی قریٰ پہنچے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس عورت سے اس کے باغ کے متعلق پوچھا کہ اس کے پھل کس حد تک پہنچے وہ بولی دس وسق ۷؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ غزوہ تبوک کا ذکر پہلے ہوچکا کہ یہ غزوہ ۹ ہجری میں ہوا،وادی قری مدینہ منورہ سے تین دن کی راہ کے فاصلہ پر واقع ہے شام کو جاتے ہوئے یہ مقام آتا ہے۔ ۲؎ حدیقہ،بستان،حائط،روضہ قریبًا ہم معنی ہیں یعنی باغ۔غالبًایہ باغ کھجوروں کا تھا اور درخت پھل سے لدے ہوئے تھے پکنے کے قریب تھے۔ ۳؎ یعنی ہم لوگوں نے مختلف اندازے لگائے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے دس وسق کا اندازہ لگایا یعنی اس باغ میں کھجوریں دس وسق ہوں گی وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور صاع قریبًا ساڑھے چار سیر کا درخوں پر پھل کھیت میں پودوں پر دانے کا اندازہ لگانا آسان نہیں اس میں بڑی مہارت درکار ہے۔ ۴؎ یعنی پھل توڑ کر تول لینا وزن یاد رکھنا جب ہم واپس آئیں توہم کو بتانا کہ پھلوں کا کتنا وزن ہوا۔ ۵؎ یعنی آج رات سارا انتظام کرکے سونا رات میں کسی کو اٹھنے کی ضرورت نہ رہے ورنہ نقصان اٹھائے گا۔ ۶؎ طی ایک قبیلہ کا نام ہے جس سے حاتم طائی تھا یہ قبیلہ ملک یمن میں تھا یہ دونوں پہاڑ اس ہی جگہ واقع ہیں ان میں سے ایک کا نام آجاء ہے دوسرے کا نام سلمٰی بعض نے کہا کہ سلمی پہاڑ نجد میں ہے مگر قوی یہ ہے کہ یہ دونوں پہاڑ یمن ہی میں ہیں(مرقات)یہ حضور انور کا معجزہ ہے بلکہ دو معجزے ہیں۔ ۷؎ یہ حضور کا تیسرا معجزہ ہے کہ حضور انور کا اندازہ ایسا درست تھا کہ اس میں ایک تولہ کا بھی فرق نہ ہوا یہ محض اندازہ نہ تھا ورنہ کچھ فرق ہوتا بلکہ یہ حضور انور کا علم غیب تھا۔
حدیث نمبر172
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ ایک بدوی آیا جب قریب ہوا تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تو یہ گواہی دیتا ہے کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں ۱؎ اور یہ کہ حضور محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں وہ بولا جو آپ کہتے ہیں اس پر گواہی کون دیتا ہے ۲؎ فرمایا یہ درخت خار دار ۳؎ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا وہ جنگل کے کنارہ پر تھا وہ زمین چیرتا ہوا آیا حتی کہ آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا پھر حضور نے اس سے تین بار گواہی لی اس نے تین بار گواہی دی ۴؎ کہ حضور ویسے ہی ہیں جیسے انہوں نے فرمایا پھر اپنے جھاڑی کی طرف لوٹ گیا ۵؎ (دارمی)
شرح
۱؎ یہ سفر یا تو جہاد کا تھا یا عمرے کا کچھ پتہ چلا نہیں(مرقات)تشہد سے پہلے ہمزہ استفہامیہ پوشیدہ ہے۔حضور انور نے اس سے یہ سوال فرمایا۔ ۲؎ یعنی انسانوں کے علاوہ اور کون شخص ہے جو آپ کی نبوت پر گواہی دے(اشعہ)اس نے نبی کے اختیاران کی سلطنت خدا داد دیکھ کر مسلمان ہونا چاہا۔ ۳؎ سلمہ کا ترجمہ ہے ببول(کیکر)جس کے پتوں کو عربی میں قرظ کہتے ہیں جس سے کھال رنگی جاتی ہے یعنی پکائی جاتی ہے،اس کی جمع سلام ہے بغیر ت کے۔(مرقات) ۴؎ یہ گواہی وہ بدوی اپنے کانوں سے سن رہا تھا اس کا آنا جانا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔اس نے ایک معجزہ مانگا تھا حضور انور نے اسے دو معجزے دکھائے درخت کا آنا جانا،گواہی دینا ورنہ ہو سکتا تھا کہ حضور خود اس درخت کے پاس جاتے اس سے گواہی لے لیتے۔ ۵؎ اس واقعہ کو امام بوصیری نے قصیدہ بردہ شریف میں یوں بیان فرمایا ہے۔ جاء ت لدعوتہ الاشجار ساجدۃ تمشی الیہ علی ساق بلا قدم حضرت حسان یوں بیان فرماتے ہیں ؎ نطق الحجر جاء الشجر شق القمر باشارتہ