| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک جہاد کیا میں اونٹ پر تھا ۱؎ جو تھک گیا تھا تو وہ چل سکتا نہ تھا مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ملے فرمایا تمہارے اونٹ کو کیا ہوا میں نے کہا کہ تھک گیا ہے تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم پیچھے چلے اونٹ کو ڈانٹا پھر اس کے لیے دعا کی ۲؎ تو وہ دوسرے اونٹ کے آگے چلنے لگا ۳؎ پھر مجھ سے فرمایا اپنے اونٹ کو کیسا دیکھتے ہو میں نے کہا خیریت سے ہے اسے آپ کی برکت پہنچ گئی فرمایا ۴؎ تو کیا تم اسے ایک اوقیہ میں میرے ہاتھ فروخت کرو گے ۵؎ تو میں نے اونٹ حضور کے ہاتھ اس شرط پر فروخت کردیا کہ مجھے مدینہ تک اس کی پشت پر سواری کا حق ہو ۶؎ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ تشریف لائے میں صبح کو آپ کے پاس لے گیا مجھے حضور نے اس کی قیمت بھی دی اور اونٹ بھی لوٹا دیا ۷؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ ناضح بنا نضح سے بمعنی پانی چھڑکنا پانی بکھیرنا،اصطلاح میں ناضح وہ اونٹ ہے جس سے کھیت کو پانی دیا جاوے اس پر کبھی سواری بھی کرلیتے ہیں یہ اونٹ بھی ایسا ہی تھا۔ ۲؎ دعا فرمائی اس اونٹ کو قوت و طاقت ملنے کی اس دعا سے اس اونٹ میں زور آگیا جس کمزور پر نظر فرمادیں اس میں قوت آجاوے۔شعر مجھ سے بے بس کی طاقت پہ دائم درود مجھ سے بے کس کی قوت پر لاکھوں سلام ۳؎ قد امھا بیان ہے بین یدی کا ان دونوں کے معنی ایک ہی ہیں،ابل سے مراد ہیں سارے اونٹ یعنی اب میرا یہ تھکا ماندہ اونٹ دوسرے اونٹوں سے آگے چلتا تھا۔ ۴؎ یعنی اب جو میرے اونٹ میں یہ زور آگیا ہے وہ آپ کی طاقت ہے کہ اب یہ روکے نہیں رکتا۔دیتا اﷲ تعالٰی ہی ہے مگر دیتا ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی معرفت۔ ۵؎ اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے اور درہم ساڑھے چار آنے کا کل گیارہ روپیہ چار آنہ میں اونٹ کا سودا طے ہوا۔اس زمانہ میں جانوروں کی قیمتیں بہت تھوڑی تھیں۔ ۶؎ فقار جمع ہے فقرہ کی بمعنی جوڑ اسی لیے حضور انور کی تلوار کا نام ذوالفقار تھا کہ اس میں جوڑ تھے یہاں اس سے مراد ہیں اونٹ کی پیٹھ کی ہڈیاں یعنی میں فروخت تو کررہا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ مدینہ منورہ تک اس پر سواری کروں گا وہاں پہنچ کر حضور کے حوالے کروں گا۔ ۷؎ یہ بیع بظاہر بیع بالشرط ہے جوکہ ممنوع ہے مگر درحقیقت یہ بیع تھی ہی نہیں بلکہ وعدہ بیع تھا کیونکہ بیع میں ضروری ہے کہ دو طرفہ ادھار نہ ہو یا قیمت پر یا چیز پر اسی مجلس عقد میں قبضہ ہوجائے۔یہاں نہ حضور انور نے قیمت دی نہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے اونٹ دیا لہذا یہ بیع نہ تھی بلکہ بیع کا وعدہ تھا مدینہ منورہ آکر اونٹ دینے قیمت لینے پر بیع ہوئی یا یوں کہو کہ یہ لفظًا بیع تھی حقیقتًا نہ تھی اسی لیے حضور کی طرف سے بطور رعایت پیش کی گئی تھی مگر پہلی توجیہ قوی معلوم ہوتی ہے۔بہرحال یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بیع کالی بالکالی سے منع فرمایا یا بیع بالشرط سے منع فرمایا نہ احناف کے خلاف ہے۔احناف کہتے ہیں کہ شرط فاسد لگانے سے بیع فاسد ہوجاتی ہے شرط فاسد کی تعریف اور شرط لگانے کی صورتیں کتب فقہ ملاحظہ کرو کہ نفس عقد میں ایسی شرط لگائی جاوے جس میں کسی کا نفع ہو اور نفع والا خود شرط لگائے اور وہ شرط ایسی ہو کہ تجارت اس کا تقاضا نہ کرتی ہو یہ بیع کو فاسد کردیتا ہے۔
حدیث نمبر171
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ حضرت جبریل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے جب کہ آپ غمگین بیٹھے تھے مکہ والوں کی ایذا رسانی کی وجہ سے کہ خون سے رنگین تھے۱؎ عرض کیا یارسول اللہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو ایک نشان دکھاؤں ۲؎ فرمایا ہاں انہوں نے آپ کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا عرض کیا اسے بلائیے۔حضور نے اسے بلایا وہ آگیا آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا ۳؎ پھر عرض کیا اسے حکم دیجئے کہ لوٹ جائے حضور نے اسے حکم دیا وہ لوٹ گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے کافی ہے ۴؎ (دارمی)
شرح
۱؎ یہ واقعہ غزوہ احد کا ہے جب کہ حضور انور پر تلوار و نیزوں کے ستر۷۰ وار کیے گئے جن سے اللہ نے آپ کو محفوظ رکھا مگر ایک پتھر سر مبارک پر لگادوسرا دانت شریف پر ایک پتھر سے آپ کی انگلی شریف زخمی ہوگئی ان تین زخموں کی وجہ سے آپ خونا خون ہوگئے اور آپ کو بہت تکلیف پہنچی۔(مرقات،لمعات،اشعہ) ۲؎ یعنی آپ کو آپ کی سلطنت خداداد دکھاؤں کہ اللہ نے آپ کا راج ساری مخلوق پر قائم فرمایا ہے اگرچہ بعض لوگ نادانی سے آپ کی حکومت نبوت نہ مانیں آیت سے مراد حضور کا وہ معجزہ ہے جس کا تعلق حضور کے خدا داد اختیار سے ہے۔ ۳؎ یعنی حضور کے بلانے پر درخت بے توقف چلا آیا۔ ۴؎ یعنی اب مجھے کفار کی مخالفت یا ان کی ایذا رسانی کی کوئی پرواہ نہیں جب مجھے اللہ تعالٰی نے ایسی حکومت بخشی ہے تو ان کفار کا نہ ماننا مجھے ایذائیں دینا ایک عارضی چیز ہے یہ سب میرے زیر نگیں آنے والے ہیں۔