Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
166 - 952
حدیث نمبر166
روایت ہے انہیں سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک برتن لایا گیا آپ زوراء میں تھے ۱؎ تو حضور نے برتن میں اپنا ہاتھ رکھا تو پانی آپ کی انگلیوں سے پھوٹنے لگا۲؎ قوم نے وضوکرلیا قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے کہا کہ تم کتنے تھے فرمایا تین سو یا تین سو کے قریب ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ زوراء مدینہ منورہ کا مشہور مقام ہے جہاں آج کل مدینہ کا بازار ہےیعنی سبزی منڈی۔(مرقات و اشعہ)

۲؎  ظاہر یہ ہے کہ پانی خود انگلیوں کے درمیان یعنی گاہیوں میں سے ایسے پھوٹا جیسے پتھر سے پانی کا چشمہ جاری ہوتا ہے۔حضور کا یہ معجزہ موسیٰ علیہ السلام کے اس معجزہ سے افضل اور عجیب تر ہے کہ پتھر سے پانی کے چشمے پھوٹے،بعض نے جو کہا ہے کہ اس سے مراد پانی میں برکت ہوگئی غلط ہے حدیث کی منشاء کے خلاف ہے۔

۳؎ غالب یہ ہے کہ پانی کی قلت ہوگئی ہوگی اور وضو کرنے والے زیادہ ہوں گے عرب میں کبھی بستیوں میں بھی پانی کم ہوجاتا ہے۔ہمارے ہاں گجرأت  میں ایک بار پانی کی بہت ہی کمی ہوگئی تھی لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ شہر میں پانی کی کمی کیسی وہاں تو پانی ہوتا ہی ہے۔
Flag Counter