Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
165 - 952
حدیث نمبر165
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ابو طلحہ نے ام سلیم سے فرمایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی آواز کمزور سی سنی ہے جس میں بھوک محسوس کرتا ہوں ۱؎ کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے وہ بولیں ہاں چنانچہ انہوں نے جو کی چند ٹکیاں نکالیں پھر اپنا دوپٹہ نکالا تو اس کے بعض سے روٹیاں لپیٹیں پھر اسے میرے ہاتھ سے چھپادیا اور بعض حصہ لپیٹ دیا ۲؎ پھر مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بھیجا تو میں وہ لے گیا تو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو مسجد میں پایا ۳؎  آپ کے ساتھ لوگ تھے تو میں نے انہیں سلام کیا تو مجھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تم کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے میں نے کہا ہاں فرمایا کھانا دے کر میں نے کہا ہاں ۴؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پاس والوں سے فرمایا اٹھو حضور چلے اور میں انکے سامنے چلا۵؎ حتی کہ میں ابوطلحہ کے پاس آیا تو میں نے انہیں یہ خبر دی ابوطلحہ نے کہا اے ام سلیم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں کو لے کر تشریف لے آئے ۶؎ ہمارے پاس کھانا نہیں جو انہیں کھلائیں وہ بولی اﷲ رسول ہی جانیں ۷؎ ابوطلحہ چلے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے ملے پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے اور ابوطلحہ حضور کے ساتھ تھے۔۸؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے ام سلیم جو کچھ تمہارے پاس ہے لاؤ ۹؎ چنانچہ یہ ہی روٹیاں لائیں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا حکم دیا وہ توڑ دی گئیں ام سلیم نے ڈبہ نچوڑا اسے سالن بنادیا۱۰؎ پھر اس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ پڑھا جس کا پڑھنا اﷲ نے چاہا ۱۱؎ پھر فرمایا دس آدمیوں کو اجازت دو انہیں بلایا گیا انہوں نے کھایا حتی کہ سیر ہوگئے پھر چلے گئے پھر فرمایا اور دس کو بلاؤ پھر اور دس کو ۱۲؎ تو ساری قوم نے کھالیا اور سیر ہوگئے قوم کل ستر۷۰ یا اسی۸۰ آدمی تھے ۱۳؎(بخاری، مسلم)اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ دس کو بلاؤ وہ آئے فرمایا کھاؤ بسم اﷲ پڑھ کر انہوں نے کھایا۱۴؎ حتی کہ یہ ہی معاملہ اسی۸۰ آدمیوں سے کیا گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور گھر والوں نے کھایا ۱۵؎  اور بقیہ چھوڑ بھی دیا اور بخاری کی ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا میرے پاس دس آدمی لاؤ حتی کہ چالیس آدمی گنائے ۱۶؎ پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کھایا ۱۷؎ تو میں دیکھنے لگا کہ کیا اس میں سے کچھ کم ہوا اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ پھر بقیہ لیا اسے جمع فرمایا پھراس میں برکت کی دعا کی تو وہ جیسا تھا ویسا ہی ہوگیا تو فرمایا اسے لو ۱۸؎
شرح
۱؎ یعنی حضور انور کی آواز میں ضعف ہے معلوم ہوتا ہے کہ کئی دن سے کھانا نہیں کھایا ہے۔یہ تحقیق پہلے کی جاچکی ہے کہ اگر حضور انور روزے کی نیت سے عرصہ تک بالکل نہ کھائیں تو مطلقًا ضعف محسوس نہیں ہوگا۔لیکن اگر بغیر روزہ کی نیت کے کھانا ترک فرمادیں تو بشریت کا ظہور ہوگا اور ضعف ظاہر ہوگا۔

۲؎ یعنی روٹیاں بہت ہی تھوڑی تھیں جو ایک بچہ یعنی حضرت انس کی بغل میں آگئیں ایک دوپٹہ کے کونہ میں لپٹ گئیں جس کا دوسرا حصہ میری بغل سے لپٹہ دیا گیا۔اقراص جمع ہے قرص کی بمعنی ٹکیاں(گلی)چھوٹی روٹی یہ جو کی تھیں۔

۳؎  یہاں مسجد سے مراد مسجد نبوی شریف نہیں ہے کیونکہ یہ واقعہ غزوہ خندق کا ہے جب کہ حضور انور خندق کھودنے کھدوانے میں خندق میں تشریف فرما تھے بلکہ مسجد سے مراد وہ جگہ ہے جو اس دن نماز کے لیے وہاں میدان میں مقرر فرمالی گئی جہاں اب خمسہ مساجد بنی ہوئی ہیں۔حضور انور کے ساتھ اس وقت اسی۸۰ آدمی تھے۔(اشعہ،مرقات)

۴؎  حضرت انس نے یہ مجمع دیکھ کر روٹیاں پیش کرنے کی ہمت نہ کی کہ پونجی تھوڑی مقام شاندار عشاق کی بھیڑ بہت زیادہ تھی مگر وہاں کون چیز مخفی تھی جسے عرش و فرش کی خبر ہے اسے حضرت انس کی بغل کی روٹیوں کی خبر کیوں نہ ہو سب کچھ بتادیا کہ تم کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے روٹیاں دے کر بھیجا ہے۔

۵؎  یعنی حضور انور نے وہاں روٹیاں قبول نہ فرمائیں بلکہ کھانے کے ساتھ خود ان کے گھر پر کرم فرمائی کی۔اب حضرت انس خادمانہ شان سے آگے آگے تھے اور تمام مہمان پیچھے۔

۶؎  حضرت طلحہ نے یہ شکایت یا ناراضی کے طور پر نہیں کہا بلکہ بطور فکر کہا کہ اب کیا کریں ہمارے ہاں کھانا قریبًا ہے ہی نہیں اور مہمان زیادہ آگئے۔

 ۷؎ یعنی اے ابو طلحہ تم فکرکیوں کرتے ہو جو سرکار مختار ہماری حالت سے خبردار اتنے مہمان لائے ہیں وہ ہی انہیں کھلائیں گے۔شعر

کونین بنائے گئے سرکار کی خاطر			کونین کی خاطر تمہیں سرکاربنایا

بے یارو مددگار جسے کوئی نہ پوچھے		ایسوں کا تمہیں یارو مددگار بنایا

۸؎ یعنی باقی تمام صحابہ پیچھے رہ گئے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم مع حضرت ابو طلحہ کے گھر میں تشریف لائے۔معلوم ہوا کہ میزبان کو چاہیے کہ معظم مہمان کا استقبال کرے۔

۹؎  یعنی تم نے جو وہاں بھیجا تھا اب یہاں لاؤ ہمارا منشا یہ تھا کہ گھر تمہارا ہو لنگر ہمارا نیز ہم چاہتے تھے کہ تم بھی اسی کھانے سے کھاؤ اگر ہم وہاں ہی کھالیتے کھلادیتے تو یہ فائدے حاصل نہ ہوتے۔

۱۰؎  یعنی ان روٹیوں کا ملیدہ بنا دیا گیا جناب ام سلیم نے اس پر کچھ گھی ڈال کر اسے مزے دار بنادیا۔معلوم ہوتا ہے کہ اس پر شکر نہیں ڈالی گئی کہ وہ تھی ہی نہیں پھیکا ملیدہ بنایا گیا گھی بجائے سالن کے ہوگیا جس سے روٹی کا ملیدہ کھانا آسان ہوگیا۔

 ۱۱؎ یہ پتہ نہ چلا کہ حضور انور نے اس پر کیا پڑھا۔بہرحال دعائے برکت کی کچھ اسماء الہیہ پڑھے اس سے ثابت ہوا کہ کھانا سامنے رکھ کر کچھ پڑھنا قرآن مجید وغیرہ سنت ہے ہم فاتحہ میں یہ ہی کرتے ہیں کہ کھانا سامنے رکھ کر آیات قرآنیہ دعائیں درود شریف وغیرہ پڑھتے ہیں ایصال ثواب کرتے ہیں یہ ممنوع یا شرک نہیں۔

 ۱۲؎ حضور انور نے سب کو یک دم کھانے پر نہ بلایا یا اس لیے کہ گھر میں سب کی جگہ نہ تھی دس آدمی ہی کی گنجائش تھی یا اس لیے کہ کھانے کا برتن چھوٹا تھا سب کے ہاتھ اس میں نہ پہنچتے یا اس لیے کہ اگر سب حضرات کو یک دم بٹھادیا جاتا تو وہ کھانا کم دیکھ کر خود بھی کم کھاتے تاکہ سب کو مل جاوے یا اس لیے تاکہ دیر تک یہ میلا لگا رہے اور لنگر جاری رہے۔(از مرقات)

۱۳؎ ان حضرات کی تعداد میں روایات مختلف ہیں چالیس۴۰ تھے ستر۷۰ تھےاسی۸۰ تھے،اسی۸۰ سے بھی زیادہ تھے ان سب کو جمع اس طرح کیا جاسکتا ہے کہ اولًا چالیس آدمی تھے پھر زیادہ ہوتے رہے حتی کہ ستر اسی یا اس سے بھی زیادہ نے کھانا کھایا۔(مرقات)

۱۴؎  کھانے کے آداب یہ بھی ہیں کہ اپنے سامنے سے کھائے اور بسم اﷲ سے کھانا شروع کرے الحمدﷲ پر ختم کرے یہ اعمال باعث برکت ہیں بعض بزرگوں کو دیکھا گیا کہ ہر لقمہ پر بسم اﷲ پڑھتے ہیں۔

۱۵؎  سنت یہ ہے کہ صاحبِ خانہ اور صاحبِ طعام سب سے آخر میں کھائے حضرت یوسف علیہ السلام زمانہ قحط میں روزانہ ایک وقت کھانا کھاتے تھے اور تمام آنے والوں کو کھانا کھلا کر تحقیق فرما کر کہ کوئی رہا تو نہیں سب نے کھا لیا پھر خود آپ کھاتے تھے۔

۱۶؎  یہ بقیہ اتنا ہی تھا جتنا اولًا رکھا گیا تھا اس میں کم بالکل نہیں ہوا تھا جیسا کہ آگے آرہا ہے۔

۱۷؎  یہ روایت پچھلی روایت کے خلاف نہیں چالیس آدمیوں کے بعد حضور انور نے کھایا اور حضور انور کے کھا چکنے کے بعد اور چالیس آدمیوں نے کھایا کہ لوگ آتے رہے کھاتے رہے۔(اشعۃ اللمعات)

۱۸؎  اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور نے اس کھانے پر دو بار دعا فرمائی پہلے کھانا کھلاتے وقت پھر سب کے کھا چکنے کے بعد اس دعا کا اثر بعد کو رہا اور لوگوں نے بھی اس سے کھایا۔
Flag Counter