Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
167 - 952
حدیث نمبر167
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ہم معجزات کو برکت شمار کرتے تھے اور تم انہیں ڈر کی چیز سمجھتے ہو ۱؎ ہم ایک سفر میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھے تو پانی کم ہوگیافرمایا کچھ بچا ہوا پانی تلاش کرو ۲؎ لوگ ایک برتن لائے جس میں تھوڑا سا پانی تھا حضور نے برتن میں اپنا ہاتھ ڈال دیا پھر فرمایا آؤ برکت والے پاک پانی اور اﷲ کی برکت پر ۳؎ میں نے پانی کو دیکھا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا ہے اور یقینًا ہم کھانے کی تسبیح سنتے تھے حالانکہ وہ کھایا جاتا تھا۴؎(بخاری)
شرح
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ آیات سے مراد حضور انور کے معجزات ہیں اس ہی لیے یہ حدیث باب المعجزات میں لائی گئی بعض شارحین نے فرمایا کہ اس سے مراد آیات قرآنیہ ہیں آپ کا اشارہ اس آیت کریمہ کی طرف ہے"وَ مَا نُرْسِلُ بِالۡاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیۡفًا"اور رب کے اس فرمان کی طرف بھی اشارہ ہے"وَمَا مَنَعَنَاۤ اَنۡ نُّرْسِلَ بِالۡاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنۡ کَذَّبَ بِہَا الۡاَوَّلُوۡنَ"۔مقصد یہ ہے کہ تم ان قرآنی آیات سے یہ مت سمجھ لینا کہ معجزات ڈرانے یا قوموں پر عذاب کے لیے ہی آتے ہیں جیسے صالح علیہ السلام کی اونٹنی وغیرہ بلکہ مؤمنین کے لیے رحمت ہوتے ہیں اور سرکش معاندین کے لیے عذاب،جو معجزہ مانگیں اور دکھائے جانے پر ایمان نہ لائیں ان پر عذاب آجاتا ہے۔

۲؎  یعنی کسی برتن میں کسی کے پاس کچھ بچا کھچا پانی ہو تو لاؤ۔خیال رہے کہ یہاں برکت کا معجزہ دکھانا مقصود تھا اس لیے پانی منگایاورنہ آپ کو اس پانی کی ضرورت نہ تھی سوکھے برتن میں بھی پانی پیدا ہوسکتا تھا۔

۳؎  یعنی یہ پانی پاک اور پاک گر بھی ہے اور برکت والا بھی ہے کہ تھوڑا پانی سب کو کافی ہوگا اور تمام پانیوں سے افضل و اعلیٰ بھی ہے کہ ہماری انگلیوں سے اس کا چشمہ پھوٹا ہے۔دنیا میں تین پانی بڑے افضل ہیں۔(۱) یہ پانی کیونکہ حضور کی انگلیوں سے جاری ہوا(۲) آبِ زمزم جو جناب اسماعیل کے قدم سے پیدا ہوا،پھر وہ پانی جو حضرت ایوب علیہ السلام کے ایڑی سے پیدا ہوا، رب فرماتا ہے:"اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ  ہٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ"بعض کے نزدیک پھر وہ پانی جو جناب مریم کے لیے جاری کیا گیا"قَدْ جَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا"۔خیال رہے کہ جس پانی کو اﷲ والوں سے نسبت ہوجاوے اس کی عزت و عظمت ہےاور جس کو بتوں سے نسبت ہو وہ منحوس اگرچہ دونوں پانی اﷲ کی مخلوق ہیں آبِ زمزم کی تعظیم ایمان کا رکن ہے اور گنگا کے پانی کی تعظیم کفر ہے کہ علامت کفر ہے۔

۴؎  اس حدیث کی تائید وہ آیت کریمہ کرتی ہے"وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ" بعض روایات میں ہے کہ حضور انور نے ایک مٹھی کنکریاں لیں تو ان کنکریوں نے تسبیح پڑھی ہم سب نے سنی حضور انور نے ان حضرات کے کانوں سے حجاب اٹھادیئے جس سے انہوں نے یہ تسبیح سن لی حضور کی نظر حضور کا ہاتھ حضور کی توجہ عالم غیب کا مشاہدہ کرادیتے ہیں حضور خچر پر سوار ہوگئے تو اس کی آنکھوں نے قبرکا عذاب دیکھ لیا مردے کی چیخ و پکار سن لی۔
Flag Counter